ⓘ Free online encyclopedia. Did you know? page 107




                                               

طویل مختصر افسانہ

1- اَدَبی اصطلاحات از انور جمال طابع نیشنل بُک فاؤنڈیشن۔

                                               

غزل

غزل اردو شاعری کی مقبول ترین "صنف" سخن ہے۔ غزل توازن میں لکھی جاتی ہے اور یہ ہم قافیہ و بحر اور ہم ردیف مصرعوں سے بنے اشعار کا مجموعہ ہوتی ہے مطلع کے علاوہ غزل کے باقی تمام اشعار کے پہلے مصرع میں قافیہ اور ردیف کی قید نہیں ہوتی ہے جبکہ مصرع ثانی ...

                                               

فنطاسیہ

فنطاسیہ فینٹیسی کسی ایسی تخیلاتی تحریر کو کہاجاتا ہے جس میں مصنف اپنے مشاہدے کے زور اور تخیل کی بلندپروازی کے ذریعے کبھی مستقبل کو حال میں کھینچ لاتا ہے اور پیش گوئی کے انداز میں مخصوص حالات وواقعات کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے، کبھی وہ عمرِرفتہ کو ...

                                               

قصیدہ

لفظ قصیدہ عربی لفظ قصد سے بنا ہے اس کے لغوی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ گویا قصیدے میں شاعر کسی خاص موضوع پر اظہار خیال کرنے کا قصد کرتا ہے اس کے دوسرے معانی مغز کے ہیں یعنی قصیدہ اپنے موضوعات و مفاہیم کے اعتبار سے دیگر اصناف ِ شعر کے مقابلے میں وہی نم ...

                                               

قطعہ

دو شعروں کے مجموعے کو قطعہ کہتے ہیں؛ قطعہ کی جمع قطعات ہے۔ مطلع کی قید سے آزاد اور اشعار کی پابندی سے مبرا ہوتا ہے۔ ہر شعر کا دوسرا مصرع قافیہ و ردیف سے مزین ہوتا ہے۔ قطعہ کا ایک وصف خاص حقیقت نگاری ہے۔

                                               

مثنوی

مثنوی کا لفظ، عربی کے لفظ ”مثنیٰ" سے بنا ہے اور مثنیٰ کے معنی دو کے ہیں۔ اصطلاح میں ہیت کے لحاظ سے ایسی صنفِ سخن اور مسلسل نظم کو کہتے ہیں جس کے شعر میں دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور ہر دوسرے شعر میں قافیہ بدل جائے، لیکن ساری مثنوی ایک ہی بحر میں ...

                                               

مرثیہ

مرثیہ عربی لفظ”رثا" سے بنا ہے جس کے معنی مردے کو رونے اور اس کی خوبیاں بیان کرنے کے ہیں۔ یعنی مرنے والے کو رونا اور اس کی خوبیاں بیان کرنا مرثیہ کہلاتا ہے۔ مرثیہ کی صنف عربی سے فارسی اور فارسی سے اردو میں آئی۔ لیکن اردو اور فارسی میں مرثیہ کی صنف ...

                                               

مسدس

مسدس چھ مصرعوں کے ایک بند پر مشتمل شاعری کو کہتے ہیں۔ اس کے پہلے چار مصرعے، ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ پانچواں اور چھٹا مصرع ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ طویل اور مسلسل منظومات کے لیے اس کا استعمال بہت ہوا ہے۔ سب سے مشہور مولانا حالی کی مسدس حا ...

                                               

مصرع

مصرع کے دو معنی ہیں 1 - آدھا شعر، پد، بیت یا فرد کا نصف حصہ۔ شعر کی ایک سطر کو مصرع کہتے ہیں۔ "عربی میں مصرع کے لغوی معنی ہیں دروازے کا ایک تختہ جسے اردو میں کواڑ کہتے ہیں۔" 2- دروازے کا ایک تختہ، کواڑکاپٹ، ایک طرف کا کواڑ۔

                                               

معراج نامہ

معراج نامہ وہ نظم جس میں حضور اکرم ﷺ کی زندگی کے محیر العقول واقعہ ’’معراج ‘‘ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اسلامی اصناف شاعری کی ایک صنف، جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک معجزے، جس کو معراج کے نام سے جانا جاتا ہے، کا حال بیان کیا جاتا ہے۔ ...

                                               

مولود نامہ

مولود نامہ اسے میلاد نامہ اور تولد نامہ بھی کہا گیا ہے۔ اردو میں نامہ کے لفظ کے ساتھ ترکیب پا کر نام حاصل کرنے والی تصنیفات فارسی کے زیر اثر ہیں کیونکہ پند نامہ شاہنامہ اور سیاست نامہ فارسی میں عام تھے انہی سے متاثر ہو کر شعرا نے اردو میں لوری نا ...

                                               

ناول

ناول اطالوی زبان کے لفظ ناولا سے نکلا ہے۔ ناولا کے معنیٰ ہے نیا۔ لغت کے اعتبار سے ناول کے معانی نادر اور نئی بات کے ہیں۔ لیکن صنفِ ادب میں اس کی تعریف بنیادی زندگی کے حقائق بیان کرنا ہے۔ ناول کی اگر جامع تعریف کی جائے تو وہ کچھ یوں ہوگی کہ" ناول ...

                                               

نسائیتی ادب

نسائیتی ادب افسانہ، نان فکشن، ڈراما یا شاعری ہے، جو خواتین کے مساوی شہری، سیاسی، معاشی، اور معاشرتی حقوق کی تعریف، قیام، اور نسائيت کے اہداف کی تائید اور دفاع کرتا ہے۔ یہ اکثر مردوں کے انفرادی کردار کی نشاندہی کرتا ہے - خاص طور پر حیثیت، استحقاق ...

                                               

نظم معرا

نظم معرا جسے غیر مقفی نظم ، بلا قافیہ نظم یا بلینک ورس بھی کہا جاتا ہے، اس شاعری کو کہتے ہیں جس میں قافیہ کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ یورپ اور بالخصوص انگریزی شاعری میں اس کا رواج رہا ہے۔ ابتدا میں اردو میں اس طرز شاعری کو غلط سمجھا گیا لیکن بعد میں ...

                                               

نورنامہ

نورنامہ وہ نظم جس میں حضور اکرم ﷺ کی نورانی زندگی کا ذکر کیا جاتا ہے اکثر اس کا ذکر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب اشیاء کی تخلیق سے پہلے اپنے نبی کے نور کو پیدا کیا، نور محمدی کے بیان کے لیے اکثر احادیث و روایات کا سہارا لیا جاتا ہے اور یہ موضوع ن ...

                                               

وفات نامہ

وفات نامہ وہ نظم جس میں حضور اکرم ﷺ کی وفات کا ذکر کیا جاتا ہے وفات نامہ، عالم گجراتی 1087ھ /1676ء نظم وفات نامہ سرور کائینات، علی بخش دریا 1111ھ نظم وفات نامہ، میر ولی فیاض 1151ھ نظم وفات نامہ، امین گجراتی 1104ھ /1692ء نظم وفات نامہ، عبد الطیف 1 ...

                                               

ڈھولا

ڈھولا لہندے پاسے دی پنجابی دی ہک صنف ہے۔ جس دے وچ راٹھاں، جنگجواں تے سورمیاں دی بہادری تے دلیری دے قصے نظم کیتے جاندے ہئن۔ ایس دی شروع راجستھان توں ہوئی۔ راجستھان دی مشہور لوک داستان "ڈھولا مارو" توں پنجاب اچ ایس انداز وچ رزمیے تے جنگنامے دا رواج ...

                                               

کہ مکرنی

کہ مُکرنی کا مطلب ہے ‘کہ کر مُکر جانا’ یعنی اپنی بات سے پلٹ جانا۔ یہ مختصر شاعرانہ لکھنے کا ایک مخصوص طرز ہے۔ اس میں ایک خاتون اپنی سکھی سے کچھ باتیں کہتی ہیں، جو پتی کے بارے میں بھی ہو سکتی ہیں اور ایک دوسری شے کے بارے میں بھی۔ جب اس کی سکھی کہت ...

                                               

ہجو

ہجو: بدگوئی، غیبت، نظم میں برا کہنا۔ ایسا کلام یاایسی نظم خواہ کسی بھی ہیئت میں ہو۔ جس میں کسی کی مخالفت میں اس پر طنز کیا جائے یا اس کا مذاق اڑایا جائے۔ اردو ادب میں میر کی ہجویات اور سودا کی ہجویات مشہور ہیں۔ سودا نے میر تقی میر کی ہجو میں جو ق ...

                                               

یک مصرعی نظم

یک مصرعی نظم اردو شاعری کی ایک جدید قسم ہے۔ اس کی ابتدا چترال سے ہوئی۔,۔ رحمت عزیز چترالی نے پہلی یک مصرعی نظم 1996ء میں لکھی اور اس کے بعد 2010ء میں روف خیر اور دیگر پاکستانی شعرا نے بھی چند یک مصرعی نظمیں کہیں۔ اُردو اور کھوار زبان میں سب سے پہ ...

                                               

ارمغان حجاز

ارمغان حجاز فارسی زبان میں شاعری کی ایک کتاب ہے جو عظیم شاعر، فلسفی اور نظریۂ پاکستان کے بانی علامہ اقبال کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1938ء میں شائع ہوئی۔ ارمغان حجاز کا مطلب ہے حجاز کا تحفہ۔

                                               

اسرار خودی

اسرار خودی فارسی کی ایک کتاب ہے جو عظیم شاعر، فلسفی اور نظریہ پاکستان کے بانی علامہ اقبال کی پہلی فلسفیانہ شاعری کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب 1915ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انفرادیت کے بارے میں نظمیں شامل ہیں جبکہ ان کی دوسری کتاب رموز بیخودی فرد واحد ...

                                               

اقبال اور مغربی تہذیب

مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چا ر سو سالوں کے دوران یورپ میں اُبھری اس کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں اُس وقت سے ہوتا ہے جب مشرقی یورپ پر ترکوں نے قبضہ کیا۔ یونانی اور لاطینی علوم کے ماہر وہاں سے نکل بھاگے اور مغربی یورپ میں پھیل گئے ی ...

                                               

اقبال کا تصور تعلیم

اردو میں تعلیم کا لفظ، دو خاص معنوں میں مستعمل ہے ایک اصطلاحی دوسر ے غیر اصطلاحی، غیر اصطلاحی مفہوم میں تعلیم کا لفظ واحد اور جمع دونوں صورتوں میں استعمال ہو سکتا ہے اور آدرش، پیغام، درسِ حیات، ارشادات، ہدایات اور نصائح کے معنی دیتا ہے۔ جیسے آنحض ...

                                               

اقبال کا تصور عقل و عشق

چونکہ عشق عربی زبان کا لفظ ہے محبت کا بلند تر درجہ عشق کہلاتا ہے اور یہی محبت کسی درجے پر جا کر جنوں کہلاتی ہے۔اس پر اقبال سے بہتر کون بیان کر سکتا ہے عشق کا محرک مجازی یا حقیقی ہو سکتا ہے۔ یہ عشق نا ممکن کو ممکن بنا ڈالتا ہے۔ کہیں فرہاد سے نہر ک ...

                                               

اقبال کا تصور عورت

اقبال پر یہ اعتراض تجدید پسند حلقوں کی جانب سے اکثر کیا جاتا ہے کہ وہ عورت کو جدید معاشرہ میں اس کا صحیح مقام دینے کے حامی نہیں ہیں جبکہ انہوں نے اس باب میں تنگ نظری اور تعصب سے کام لیا ہے اور آزادی نسواں کی مخالفت کی ہے۔ یہ اعتراض وہ لوگ کرتے ہی ...

                                               

اقبال کا مرد مومن

اقبال کے افکار میں ”مرد مومن" یا ”انسان کامل" کا ذکر بجا ملتا ہے۔ اس کے لیے وہ ”مرد حق" ”بندہ آفاقی" ”بندہ مومن" ”مرد خدا" اور اس قسم کی بہت سی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں حقیقتاً یہ ایک ہی ہستی کے مختلف نام ہیں جو اقبال کے تصور خودی کا مثالی پیکر ...

                                               

اقبال کا نظریہ فن

شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو جس سے نفس افسردہ ہو وہ باد سحر کیا بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں جو ضرب کلیمی نہیں رکھتی و ہ ہنر کیا نظریہ فن کے بارے میں اقبال اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اوّل یہ کہ آرٹ کی غرض محض حسن کا ا ...

                                               

اقبال کی شاعری کا ہندی ادب پر اثر

اقبال کی شاعری کا ہندی ادب پر اثر ان کی زندگی کے دور ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ حالانکہ دو باتیں ان کے معاصر ہندی شعرا کو اکھرتی تھی۔ ایک ان کے سیاسی نظریات اور دوسرے خود اردو زبان سے سیاسی صفبندیوں کی وجہ سے نفرت۔ اس کے باوجود بھی بہت سے ہندی زبان ...

                                               

اقبالیات

اقبالیات ایک موضوع ہے، جس میں شاعر ڈاکٹر محمد اقبال کی شاعری، خطبات، مضامین اور دیگر کام، ان کے نظریات اور حالات زندگی پر تحقیق کی جاتی ہے۔ اقبالیات سے مراد وہ تمام سوانحی، تشریحی اور تنقیدی مواد ہے جو علامہ اقبال کی شخصیت اور ان کے فکر و فن کو س ...

                                               

بالِ جبریل

بال جبریل علامہ اقبال کے کلام کا مجموعہ ہے۔ یہ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ہے جو بانگ درا کے بعد 1935ء میں منظر عام پر آئی۔ اس مجموعے میں اقبال کی بہترین طویل نظمیں موجود ہیں۔ جن میں مسجد قرطبہ۔ ذوق و شوق۔ اور ساقی نامہ شامل ہیں۔

                                               

بانگ درا

بانگ درا برصغیر کے عظیم شاعر و فلسفی محمد اقبال کی شاعری پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام ہے جو 1924ء میں شائع ہوئی۔ بانگ درا کی شاعری علامہ محمد اقبال نے 20 سال کے عرصے میں لکھی تھی اور اس مجموعے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 1905ء سے 1908ء کے درمی ...

                                               

جاوید نامہ

جاوید نامہ فارسی شاعری کی ایک کتاب ہے جو عظیم شاعر، فلسفی اور نظریہ پاکستان کے خالق علامہ اقبال کی تصنیف ہے اور مثنوی کی شکل میں ہے اور تقریباً دو ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1932ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا شمار علامہ اقبال کی بہترین ...

                                               

جواب شکوہ

”شکوہ" کے جواب میں نظمیں دیکھ کراقبال کو خود بھی دوسری نظم ”جواب شکوہ" لکھنی پڑی جو 1913ء کے ایک جلسہ عام میں پڑھ کر سنائی گئی۔ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ”شکوہ" پڑھی گئی تو وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی یہ بہت مقبول ہوئی لیکن کچھ حضرات اقبا ...

                                               

خضر راہ

خضر راہ اقبال کی ایک نظم ہے جسے انہوں نے انجمن حمایت اسلام کے 37 ویں سالانہ اجلاس میں جو 12 اپریل 1922ء کو اسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ میں منعقد ہوا تھا میں ترنم سے پڑھ کر سنائی تھی۔ بعض اشعار پر اقبال خود بھی بے اختیار روئے اور مجمع بھی ا ...

                                               

خطبات اقبال

تجدیدِ فکریاتِ اسلام یا "تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ" علامہ اقبال کی ایک انگریزی کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islam کے اردو ترجمے کا نام ہے جو ان کے سات خطبات کا مجموعہ ہے۔ پہلے چھ خطبات انہوں نے دسمبر 1928ء اور جنوری 1929ء کے ...

                                               

خودی (اقبال)

محمد اقبال کا پیغام یا فلسفہ حیات کیا ہے اگر چاہیں تو اس کے جواب میں صرف ایک لفظ ”خودی" کہہ سکتے ہیں اس لیے کہ یہی ان کی فکر و نظر کے جملہ مباحث کا محور ہے اور انہوں نے اپنے پیغام یا فلسفہ حیات کو اسی نام سے موسوم کیا ہے۔ اس محور تک اقبال کی رسائ ...

                                               

روح اقبال

شاعر مشرق علامہ اقبال کے کلام پر ڈاکٹر یوسف حسین خاں کی تصنیف۔ روح اقبال 1942ء میں پہلی بار طبع ہوئی اور اس کے بعد اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ روح اقبال کے تین حصے ہیں جن میں علی الترتیب اقبال اور آرٹ، اقبال کا فلسفہ تمدن اور اقبال کے مذہبی اور ...

                                               

زبورِعجم

زبورِعجم میں مثنوی گلستان راز جدید اور بندگی نامہ شامل ہیں۔ اس کتاب کو علامہ اقبال نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے دو حصوں میں کلاسیکی غزلیں اور دوسرے دو حصوں میں لمبی نظمیں ہیں۔

                                               

زندہ رود

زندہ رُود ایک کردار کا نام ہے، جو مشہور فلسفی اور شاعر علامہ اقبال نے اپنی شہرہ آفاق فارسی شاعری کی کتاب جاوید نامہ میں اپنے آپ کے لیے استعمال کیا ہے۔ رُود کے لغت میں کئی ایک معانی ہیں جیسے دریا، ندی، آنے جانے والا وغیرہ۔ چونکہ اس کتاب میں علامہ ...

                                               

شکوہ

یہ وہ شہر آفاق نظم ہے جو اپریل 1911ءکے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں پڑھی گئی۔ لندن سے واپسی پر اقبال نے ریواز ہوسٹل کے صحن میں یہ نظم پڑھی۔ اقبال نے یہ نظم خلاف معمول تحت اللفظ میں پڑھی۔ مگر انداز بڑا دلا ویز تھا۔ اس نظم کی جو کاپی اقبال اپنے قلم س ...

                                               

ضرب کلیم

ضرب کلیم اردو زبان میں شاعری کی ایک کتاب ہے جو عظیم شاعر، فلسفی اور پاکستان کے قومی شاعرعلامہ اقبال کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1936ء میں ان کی وفات سے صرف دو سال قبل شائع ہوئی۔

                                               

غلام قادر روہیلہ (نظم)

علامہ محمد اقبال کے مجموعۂ کلام بانگِ درا کی ایک نظم کا عنوان جس میں علامہ نے ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے، جس میں غلام قادر روہیلہ کی بربریت دکھائی ہے کہ اس نے مغل بادشاہ کی آنکھیں نکالنے کے بعد اس کے حرم کی عورتوں کو رقص کا حکم دیا تھا۔ ...

                                               

فاطمہ بنت عبد اللہ (نظم)

علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام بانگ درا کی اِس نظم فاطمہ بنتِ عبد اللہ میں فاطمہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور نظم کے عنوان کے ساتھ خود ہی وضاحت کردی ہے کہ فاطمہ عرب لڑکی تھی جو اطالوی ترک جنگ میں غازیوں کو پانی پلاتی ہوئی شہید ہوئی۔

                                               

والدہ مرحومہ کی یاد میں

یہ نظم اقبال نے اپنی والدہ ماجدہ کی وفات پر ان کی یاد میں لکھی۔ اسے مرثیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اولین شکل میں اس کے گیارہ بنداور 89 اشعار تھے۔ ”بانگ درا" میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں تبدیلی کی اور موجودہ شکل میں نظم کل تیرہ بندوں اور چھیاسی اشعار ...

                                               

وطنیت و قومیت

آج کےجدید مغربی سیاسی افکار میں وطنیت اور قومیت قریب ہم معنی ہیں۔ اقبال نے وطنیت کے سیاسی تصور کو جس بناءپر رد کیا تھا وہی وجہ مغربی نظریہ قومیت سے ان کی بدظنی کی بنیاد بنی ان کا خیال تھا کہ قومیت کی ایک سیاسی نظا م کی حیثیت قطعاً غیر انسانی اقدا ...

                                               

پیامِ مشرق

پیام مشرق کے پانچویں اور آخری حصے کا نام خُردہ ہے۔ اس میں مختلف عنوانات کے تحت تیئیس متفرق اشعار شامل ہیں۔ ان اشعار کے مضامین میں نُدرت اور فکر و خیال کی تازگی اور گہرائی کا عنصر کار فرما ہے۔

                                               

کلیات اقبال

کلیات اقبال علامہ اقبال کے شعری مجموعوں کا مشہور دیوان ہے۔ اس میں ان کے مشہور مجموعے بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز شامل ہیں۔ یہ ناظم اقبال اکادمی پاکستان چھٹی منزل، ایوان اقبال، لاہور کتاب ایک صدی سے اردو میں شائع ہونے والی مق ...

                                               

استاد دامن

4 ستمبر 1911ء سینچروار، 18 پوہ، 18 ذوالحجہ 1327ھ کو چوک متی لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد میراں بخش درزیوں کا کام کرتے تھے۔ بچپن ہی میں استاد دامن نے گھر یلوحالات کے پیش نظر تعلیم کے ساتھ ٹیلر نگ کا کام بھی کرنا شروع کیا۔ جب استاد دامن کی عمر تیرہ سا ...

                                               

الکساندربلوک

الکساندرالکساندرووچ بلوک روسی: Алекса́ндр Алекса́ндрович Бло́к, نقل حرفی Alexander Alexandrovich Blok روسی غنائی شاعر تھے جو اپنی علامت نگاری کی وجہ سے مشہور ہوئے۔