ⓘ Free online encyclopedia. Did you know? page 186




                                               

محمد بن ابی عامر المنصور

محمد بن ابی عامرکے آباواجداد کا تعلق یمن سے تھا اور اس کا جدا مجد عبدالمالک المعافری طارق بن زیاد کی فوج میں سپاہی تھا جو اندلس میں جزیرہ الخضرہ کے قریب ایک قصبہ ”طرش" میں آکر آباد ہو گیا۔محمد بن ابی عامر اسی کی آٹھویں نسل میں طرش ہی میں 938ءمیں ...

                                               

معرکہ العقاب

اسپین کے مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی مسیحی مہم استرداد کے سلسلے کی ایک اہم جنگ جو خلافت موحدین اور مسیحیوں کے اتحاد کے مابین تیرہویں صدی میں لڑی گئی۔ اس میں مسیحیوں سے فیصلہ کن فتح حاصل کی اور اسے اسپین میں مسلم اقتدار کے خاتمے کے سلسلے میں ...

                                               

آفتاب شاہ عالم ثانی

شاہ عالم ثانی آفتاب اصل نام مرزا عبد اللہ تھا، مغل فرماں رواں عزیز الدین عالم گیر ثانی کے بیٹے تھے اور شاہ عالم ثانی کے لقب سے مشہور ہوئے۔ انھیں 20 جولائی 1788 کو غلام قادر روہیلہ نے اندھا کر دیا تھا۔ شاہ عالم ثانی نے اعلی تعلیم پائی تھی۔ انھیں م ...

                                               

ابراہیم لودھی

خاندان لودھی کے آخری بادشاہ۔ سکندر لودھی کا بڑا بیٹا۔ باپ کے بعد بادشاہ بنا۔ باپ دادا کے برعکس مزاج کا اکھڑ اور غصیلا تھا۔ امرا ناراض ہو گئے۔ بزور دبانا چاہا تو زیادہ بگڑ گئے اور بغاوتیں کیں۔ اس کے بھائی جلال خان نے بغاوت کی اور مارا گیا۔ چچیرے ب ...

                                               

ابو الفضل ابن مبارک

اکبر اعظم کے نورتنوں میں سے ایک یہ بھی ہیں۔ 1572ء میں اپنے بھائی فیضی کے ساتھ دربار اکبری میں باریاب ہوا۔ آہستہ تقرب شاہی حاصل کر لیا۔ یہاں تک کہ صدر الصدور کے عہدے پر فائز ہوا۔ 1600ء میں منصب چار ہزاری پر فائز ہوا۔ شہزادہ سلیم جہانگیر کا خیال تھ ...

                                               

احمد شاہ ابدالی

احمد شاہ درانی جسے احمد خان ابدالی بھی کہا جاتا ہے ، درانی سلطنت کا بانی تھا اور جدید افغانستان ریاست کے بانی کے طور پر مانا جاتا ہے۔ اس نے نادر شاہ افشار کی فوج میں جوان سپاہی کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور بہت جلد ابدالی رجمنٹ کا کمانڈ ...

                                               

ارتھ شاستر

ارتھ شاستر ، کوٹلیہ چانکیہ کی لکھی گئی ایک بہت ہی مشہور کتاب کا نام ہے۔ کوٹلیہ چانکیہ اپنی اس کتاب کی وجہ سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ کوٹلیہ چانکیہ نے اس آفاقی تصنیف میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔ علوم و فنون، ...

                                               

اشوک اعظم

مہاراجہ اشوک سلطنت موریہ کا تیسرا شہنشاہ گزرا۔ وہ سلطنت مگدھ کا راجا چندر گپت موریا کا پوتا ہے۔ اشوک 272 ق۔ م میں گدّی پر بیٹھا۔ اُس نے چندر گُپت سے بھی زیادہ شہرت پائی۔اور اپنا دارالسلطنت ٹیکسلا کو بنایا اُس کو اکثر اشوکِ اعظم کہا جاتا ہے کیونکہ ...

                                               

بال گنگا دھر تلک

بال گنگا دھر تِلک ایک ہندوستانی قوم پرست لیڈر تھے۔ اگرچہ پیدائشی برہمن تھے۔ مگر اس کی پرورش مہاراشٹر کے عام ماحول میں ہوئی۔ ان کے والد ایک مدرس تھے۔ جس نے ان کو مغربی تصورات سے آگاہ کیا۔ 10 سال کی عمر میں وہ پونا چلے گئے جو مرہٹہ قومیت کا مرکز تھ ...

                                               

بخت بلند شاہ

بخت بلند شاہ ایک قابل اور لائق حکمراں تھا۔ بخت بلند شاہ کی فوجی قوت تھوڑے ہی عرصے میں خاصی مضبوط ہو گئی تھی اس لیے اس نے اپنی پڑوسی ریاستوں چاندہ اور منڈلا پر حملے کر کے اپنی حکومت کو وسعت اور ترقی دی۔ کچھ عرصے میں اس کی حکومت چھندواڑہ، بیتول، نا ...

                                               

بندہ بیراگی

سکھوں کا فوجی قائد۔ اصل نام لچھمن دیو۔ قوم راجپوت۔ راجوڑی علاقہ پونچھ کا باشندہ تھا۔ جوانی ہی میں بیراگی ہو گیا اور دریائے گودادری کے کنارے سکونت اختیار کی۔ گورو گوبند سنگھ دکن گئے تو ان کی ملاقات بیراگی سے ہوئی۔ انھوں نے اسے سکھوں کا فوجی رہنما ...

                                               

بھارت میں 500 اور 1000 کے نوٹوں کا اسقاط زر

500 اور 1000 کے نوٹوں کا اسقاط زر حکومت ہند کا ایک اقدام ہے جس کے نتیجے میں 9 نومبر 2016ء سے پانچ سو اور ایک ہزار کے بھارتی نوٹوں کا چلن ختم اور انہیں بے قیمت کر دیا گیا۔ 8 نومبر 2016ء کی رات کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم کو خطاب کرتے ہو ...

                                               

بھارت میں صرف خاص

صرف خاص کسی آئینی یا جمہوری بادشاہت میں ریاست کے خود مختار حکمرانوں اور شہنشاہی خاندانوں کو ملنے والی خصوصی رقم کو کہا جاتا ہے۔ بھارت میں سنہ 1950ء میں جمہوری آئین نافذ ہونے کے بعد صرف خاص دینے کا آغاز ہوا تھا۔ انگلستان، برطانیہ، جاپان یا دیگر یو ...

                                               

بھٹ خاندان کے مرہٹہ پیشوا اور جرنیل

پیشوا خاندان جو پہلے بھٹ خاندان کے نام سے معروف تھا، ہندوستان کا ایک مشہور خانوادہ ہے جس نے اٹھارویں صدی عیسوی میں تقریباً ایک صدی تک ہندوستان پر حکومت کی۔ اس خاندان کے بیشتر افراد اپنے دور اقتدار میں پیشوا یعنی وزیر اعظم کہلاتے تھے اور بعد ازاں ...

                                               

بہار کی تاریخ

بہار کی تاریخ کو اسے تین ادوار میں تقسیم کرکے دیکھا جاسکتا ہے۔ نئی تاریخ قرون وسطی کی تاریخ قدیم تاریخ بہار ہندوستان کے مشرقی حصے میں واقع ایک خاص ریاست ہے ، جو تاریخی اعتبار سے ہندوستان کا سب سے بڑا مرکز ہے ، یا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بہار کے ...

                                               

بہار کی جدید تاریخ

جدید بہار کا عبوری دور 1707 ء سے شروع ہوتا ہے۔ 1707 میں اورنگ زیب کی موت کے بعد ، شہزادہ عظیم الشان بہار کا شہنشاہ بنا۔ جب فرخ سیر 1712–19 ء میں دہلی کا شہنشاہ بنا تو اس عرصے میں بہار کے چار گورنر تھے۔ 1732 ء میں بہار کے نواب کو ناظم بنایا گیا تھا۔

                                               

بہلول لودھی

ہندوستان میں افغان لودھی سلطنت کا بانی۔ سادات کی بادشاہی میں سرہند کا حاکم تھا۔ اصل میں یہ افغانستان سے آئے ہوئے پٹھان قبیلہ سے تھے۔ لودھی /لودی ، پشتو: لودی ، ایک بتانی پشتون قبیلہ ہے جو بنیادی طور پر افغانستان اور پاکستان کے علاقوں میں پایا جات ...

                                               

بہمنی سلطنت

سلطان محمد بن تغلق نے 1342ء میں ظفر خان کو جنوبی ہند کا صوبہ دار مقرر کیا- اس نے دکن کے سرداروں کو اپنے ساتھ ملا کر مرکز سے علیحدگی اختیار کی اور 1347ء میں علاء الدین حسن گنگو بہمنی کا لقب اختیار کر کے آزاد بہمنی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ بہمنی سلطنت ...

                                               

بیجاپور (ضد ابہام)

جنوبی ہند کی ایک قدیم سلطنت، جس کا داراسلطنت اسی نام کا شہر تھا۔ پندرھویں تا سترھویں صدی میں اس ریاست پر عادل شاہی خاندان کی حکومت تھی۔ اب ہندوستان کے صوبہ کرناٹک میں شامل ہے۔ شہربیجاپور روئی کی تجارت کا مرکز ہے۔ یہاں کی قدیم عمارات میں گول گنبد ...

                                               

بیربل

بیربل 1528 میں یو پی کے ایک دیہات کالپی میں پیدا ہوا۔ایک روایت کے مطابق صوبہ پنجاب کی تحصیل خانپور کو کٹورا اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی دو روایات ہیں۔ ایک یہ کہ ماضی میں یہاں کے بنائے ہوئے کٹورے پو رے بر صغیر میں مشہور تھے کچا کھو یا یہاں کی مشہور س ...

                                               

بیرم خان

ترک نسل کا ایک سردار۔ بخارا کا باشندہ تھا۔ پہلے بابر اور پھر ہمایوں کا مصاحب اور سپہ سالار مقرر ہوا۔ ہمایوں کی جلاوطنی میں اس کے ساتھ ایران گیا۔ کابل فتح کے بعد اکبر اعظم کا اتالیق مقرر ہوا اور اکبر کو تخت نشین کرکے خود اس کا سرپرست بنا۔ اپنے چار ...

                                               

تاریخ ہند

تقريبا 2500 سال قبل مسيح سے لے کر 1500 سال قبل مسيح تک دریائے سندھ اور سرسوتی کی واديوں ميں ايک بہت بڑی تہذيب بستی تھی۔ اس کو سندھ طاس تہذيب کہا جاتا ہے۔ اپنے زمانے ميں يہ دنيا ميں سب سے وسيع رقبے پر پھيلی ہوئی تہذيب تھی۔

                                               

تاریخ ہند کے مصادر

ذیل میں تاریخ ہند کے ان معروف مصادر کی فہرست درج ہے جن کا تذکرہ عموما تاریخ ہند کی کتابوں میں ملتا ہے اور اکثر معلومات انہی کتابوں سے اخذ کی جاتی ہیں۔ کیونکہ مذکورہ بالا مصادر یا تو دسترس میں نہیں ہوتیں یا سنسکرت اور پالی زبانوں میں ہونے کی وجہ س ...

                                               

تانا شاہ

پیدائش: 1674ء انتقال: 1704ء لطنت گولکنڈہ کا آخری تاجدار۔ ابوالحسن قطب شاہ نام۔ تانا شاہ عرف۔ اپنے خسر عبداللہ قطب کے انتقال کے بعد گولکنڈہ کے تخت پر بیٹھا۔ نہایت عیش پسند، آرام طلب اور نازک دماغ تھا۔ اس کی سیماب طبعی کے ہاتھوں رعیت سخت پریشان تھی ...

                                               

تانتیا توپی

مرہٹہ پیشوا۔ فوجی جرنیل تھا۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں اس نے کا رہائے نمایاں سر انجام دیے اور اپنے فوجی دستوں سمیت کانپور کالپی وغیرہ تک جا پہنچا۔ انگریزی افواج سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بالاخر محصور اور قید ہوا اور اسے گولی کا نشانہ بنا دیا گیا۔جھانسی ک ...

                                               

تخت طاؤس

مغل شہنشاہ شاہجہان نے تخت نشینی کے بعد اپنے لیے ایک نہایت قیمتی تخت تیار کرایا جو ’’تخت طاؤس‘‘ کہلاتا تھا۔ اس تخت کا طول تیرہ گز عرض ڈھائی گز اور بلندی پانچ گز تھی۔ یہ چھ پایوں پر قائم تھا۔ جو خالص سونے کے بنے ہوئے تھے۔ تخت تک پہنچنے کے لیے تین چ ...

                                               

ترائن کی جنگیں

شہاب الدین غوری افواج کا زبردست جنگجو اور سپہ سالار تھا۔ وہ اپنی ریاست کو محمود غزنوی کی ریاست سے بھی وسیع کرنا چاہتا تھا۔ اس نے 1175ء میں ہندوستان پر پہلی بار حملہ کرکے ملتان کو فتح کر لیا، اس کے بعد وہ اچ پہنچا جو اب بہاولپور ڈویژن میں ہے ہندوس ...

                                               

تغلق خاندان

ہندوستان میں خلجی خاندان کے بعد سلطان غیاث الدین تغلق نے دہلی پر تغلق خاندان کی حکومت قائم کی۔ یہ خاندان 1413ء تک حکمران رہا۔ اور اس کے بعد سید خاندان بر سر اقتدار آیا۔ تغلق خاندان کے دو بادشاہ زیادہ نامور ہوئے ہیں۔ سلطان محمد عادل بن تغلق شاہ ای ...

                                               

جلال الدین خلجی

خاندان خلجی کا پہلا بادشاہ۔ تخت نشینی کے وقت اس کی عمر ستر سال تھی۔ فطرتاً رحم دل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے عہد میں بغاوتیں زور پکڑ گئیں۔ مغلوں نے بھی حملے کیے لیکن انھیں پسپا کر دیا گیا۔ کچھ مغل دہلی کے قریب ہی بس گئے اور اس جگہ کا نام مغلپورہ پڑ ...

                                               

جنگ آزادی ہند 1857ء

ہندوستانیوں کی انگریز کے خلاف پہلی آزادی کی مسلح جنگ۔ انگریزوں نے اس جنگ کو غدر کا نام دیا۔ عموماً اس کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں۔ اولاً یہ کہ ایسٹ ایڈیا کمپنی نے ہندوستان کے تمام صوبے اور کئی ریاستیں یکے بعد دیگرے اپنی حکومت میں شامل کر لی تھیں۔ ...

                                               

جنگ جہلم

سانچہ:Campaignbox Alexanders Indian campaign جنگِ ہڈاپیس یا The Battle of the Hydaspesایک جنگ تھی جو 326ء میں سکندر اعظم اور دریائے جہلم کے کنارے واقع سلطنت کے بادشاہ راجا پورس کے مابین لڑی گئی اس سلطنت کا نام پوراوا سلطنت تھا جو آج بہرا پاکستانی ...

                                               

جنگ کوہیما

کوہیما کی جنگ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی فوج ، آزاد ہند فوج اور اتحادی افواج کے مابین لڑی گئی تھی ۔ جدید ہندوستان کی ریاست ناگالینڈ کے شہر کوہیما کی سرحد پر 4 اپریل سے 22 جون 1944 کے درمیان لڑی جانے والی جنگ جاپان کی یوگو مہم کا اختتام تھی۔ ا ...

                                               

حسین نظام شاہ

پیدائش: 1523ء انتقال: 1565ء ریاست احمد نگر کا والی۔ اپنے والد برہان نظام الملک کی وفات کے بعد تخت پر بیٹھا۔ اس کا حقیقی بھائی عبد القادر بھاگ کر عماد الملک والی برار کے پاس چلا گیا۔ سوتیلا بھائی شاہ حیدر قلعہ پرندہ میں اپنے خسر جہاں سے جا ملا۔ حس ...

                                               

خاندان غلاماں

خاندان غلاماں 1206ء سے 1290ء تک ہندوستان میں سلطنت دہلی پر حکمران رہا۔ اس خاندان کا بانی قطب الدین ایبک تھا جو شہاب الدین غوری کی افواج کا جرنیل اور ہندوستان میں غوری سلطنت کے حصوں کا منتظم تھا۔ 1206ء میں غوری کی شہادت کے بعد قطب الدین نے غوری سل ...

                                               

خضر خان

سید خضر خان ابن ملک سلیمان 1414 تا 1421ء دہلی سلطنت کا حکمران تھا جس نے سید خاندان کی دہلی میں بنیاد رکھی- ان کے والد صاحب سید ملک سلیمان تھے جو ملک مروان دولت کی ملازمت میں تھے- ملک مروان دولت ،سلطان فیروز شاہ تغلق کے وقت میں ملتان کے گورنر تھے ...

                                               

خضر خاں

1421ء تغلقوں کے عہد میں ملتان کا حاکم ۔تیمور کی آمد پر اس کے ساتھ مل گیا۔ اسی بنا پر لاہور، دیپالپور اور ملتان کا حاکم بنا دیا گیا۔ سلطان محمود تغلق کی وفات پر دہلی فتح کرکے خاندان سادات کی بنیاد رکھی۔ اپنے بیٹے مبارک شاہ کو جانشین مقرر کیا۔

                                               

دشرتھ موریہ

دشرتھ موریہ ایک موریہ حکمران تھے جنھوں نے 232 ق م سے 224قبل مسیح تک حکمرانی کی تھی۔ وہ موریہ سلطنت کے ایک اور حکمران اشوک اعظم کا پوتا تھے۔ اشوک کے بعد وہ تخت نشین ہو گئے۔ ان کے دور میں سلطنت کمزور پڑ گئی اور کئی علاقے مرکز سے الگ ہو گئے۔ دشرتھ ن ...

                                               

رائے احمد خاں کھرل

رائے احمد خاں کھرل 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران میں نیلی بار کے علاقے میں مقامی قبیلوں کی برطانوی راج کے خلاف بغاوت کے رہنما اور سالار تھے۔ 21 ستمبر کو انگریزوں اور سکھوں کے فوجی دستوں نے گشکوریاں کے قریب نورے دی ڈل کے مقام پر دورانِ نماز احمد خان ...

                                               

راجہ وجے سنگھ گجر

راجا وجئے سنگھ گجر ریاست لانڈھاؤرا اور کنجا بہادر پور ریاست کے گجر بادشاہ تھے ، جسے ان کے چچا راجا رام دیال سنگھ نے 18 ویں صدی میں تشکیل دیا تھا۔ راجا وجئے سنگھ نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا اور عوام کو ملک کی آزادی حاصل کرن ...

                                               

رانی لکشمی بائی

جھانسی کی رانی جن کا نام لکشمی بائی تھا۔ جھانسی ریاست کی رانی تھی جو 19 نومبر 1828ء کو پیدا ہوئی اور 18 جون 1858ء کو وفات پاگئی۔ وہ جنگ آزادی ہند 1857ء میں بھرپور کردار نبھانے والے ان لیڈروں میں سے ایک تھی جنہوں نے ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کر ...

                                               

رحمت خاں روہیلہ

سانچہ:نقش حیات حافظ رحمت خان روہیل کھنڈ میں روہیلے یوسفزئی کا آخری سردار۔ 1772ء میں نواب وزیر اودھ اور حافظ رحمت خاں میں معاہدہ ہوا کہ مرہٹوں کے حملے کی صورت میں نواب اور انگریز روہیلوں کی مدد کریں گے جس کے عوص روہیلہ سردار نواب اودھ کو چالیس لاک ...

                                               

روہیل کھنڈ

آگرہ و اودھ کا شمالی علاقہ جس پر ایکپٹھان|یوسفزئی قبیلے روہیلہ کی حکومت تھی۔ یہ قبیلہ یوسفزئی پشاور کے گرد و نواح میں آباد تھا اس کے چند سرداروں نے جو مغل فوج میں اعلی عہدوں پر فائز تھے، اٹھارویں صدی کے شروع میں آگرہ اور اودھ کے اضلاع بریلی، بدای ...

                                               

ریاست اودھ

اس سلطنت کا بانی دربار دہلی کا ایک ایرانی امیر سعادت خاں 1722ء تا 1739ء تھا جس کو مغل حکمران کی طرف سے برہان الملک کا خطاب ملا تھا۔ اودھ کی ریاست بھی سلطنت دہلی کی بالادستی تسلیم کرتی تھی اور اس کے کئی حمکران بادشاہ دہلی کے عہدیدار تھے۔ سعادت خاں ...

                                               

زمزمہ توپ

زمزمہ جسے کمز گن اور بھنگیاں والا توپ بھی کہا جاتا ہے، ایک تاریخی توپ ہے، جسے احمد شاہ ابدالی کے حکم سے اس کے وزیر شاہ ولی نے 1757ء میں بنوایا۔ اس کی لمبائی 14 فٹ ساڑھے چار انچ اور نال کا قطر ساڑھے 9 انچ ہے۔ اس کا گولا آہنی ہوتا ہے۔ 1761ء میں احم ...

                                               

سر جان شور

ہندوستان کا گورنر جنرل۔ 1768ء میں ہندوستان آیا۔ 1775ء سے 1780ء تک کلکتہ میں ریونیو کونسل اور 1787ء سے 1789ء تک بنگال کی سپریم کونسل کا رکن رہا۔ وارن ہیسٹنگز کے بعد اور لارڈ کارنوالس کے مقرر ہونے سے پہلے تقریباً ڈیڑھ سال عارضی طور پر گورنر جنرل کے ...

                                               

سلطان حیدر علی

حیدر علی خان Hyder Ali Khan جنوبی ہند دکن کی سلطنت میسور کے سلطان تھے۔ ان کا نام حیدر نائک تھا۔ دورحکومت 1722ءتا 1784ء والئی میسور۔ نسلا ہاشمی قریشی تھے۔ ان کے پردادا گلبرگہ دکن میں پنجاب کے علاقہ ساہیوال سے آ کر آباد ہو گئے تھے۔ والد فتح محمد ری ...

                                               

سلطنت دہلی

1206ء سے 1526ء تک ہندوستان پر حکومت کرنے والی کئی حکومتوں کو مشترکہ طور پر دہلی سلطنت کہا جاتا ہے۔ ترک اور پشتون نسل کی ان حکومتوں میں خاندان غلاماں ، خلجی خاندان ، تغلق خاندان ، سید خاندان اور لودھی خاندان کی حکومتیں شامل ہیں۔ 1526ء میں دہلی کی ...

                                               

سید خاندان

سید خاندان نے ہندوستان میں 1414 سے 1451 تک دہلی سلطنت پر حکومت کی ـ یہ تغلق خاندان کو ہٹانے میں کامیابی کے بعد ہی آئے تھےـ یہ خاندان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے ہونے کا دعوی کرتے تھے۔ دہلی سلطنت کی مرکزی اتھارٹی امیر تیمور کے مسلسل ...

                                               

شمال مشرقی بھارت

شمال مشرقی بھارت یا شمال مشرقی ہند بھارت کا ایک علاقہ ہے جس میں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ،تریپورہ) اور ہمالیائی ریاست سکم شامل ہیں۔

                                               

شمس الدین کیومرث

کیومرث خاندان غلاماں کا آخری بادشاہ تھا۔ وہ معز الدین کیقباد کا بیٹا تھا اور اپنے والد کی بیماری اور بعد ازاں خلجی سرداروں کی جانب سے قتل کے بعد تخت نشین ہوا۔ تاہم جلال الدین فیروز خلجی نے اسے اقتدار سے ہٹا کر خود تخت حاصل کر لیا۔ اس طرح سلطنت دہ ...