Back

ⓘ اقوام متحدہ




                                               

اردن میں موجود شامی مہاجرین کے کیمپ

یہ کیمپ شام کی خانہ جنگی سے بچ کے آنے والے چودہ لاکھ شامی پناہ گزینوں کی آمد شامی کے بعد اردن میں تعمیر کیے گئے تھے۔ اردن میں شامی پناہ گزینوں کے لیے پانچ کیمپ قاءم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین سرکاری جبکہ باقی عارضی ہیں۔ تاہم، صرف چھ لاکھ پچاس ہزار مہاجرین اقوام متحدہ کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے قریبا 90 فیصد مہاجرین ان کیمپوں کے بجاءے قریب کے شہروں اور قصبوں میں رہتے ہیں۔

                                               

سیونانتی تھانیتھیرن

تھننیتھیرن نے سیاسی انتخابات میں خواتین امیدواروں کی تشہیر کرکے اپنے سیاسی کام کا آغاز کیا۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ، اقوام متحدہ کے لیے کام کیا ، یونیورسٹی میں پڑھایا اور ایک رسالہ چلایا۔ انہوں نے ایجنڈا 21 پر "، شہروں ، افراتفری اور تخلیقی صلاحیتوں: مواصلات کے لیے ایک ماخذ کتاب" ، "شہر" ، شہریوں اور تہذیبوں: اچھی شہری حکمرانی کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات "پر بھی شریک کتاب لکھی اور ان میں ترمیم کی۔ اور ایجنڈا برائے عمل: بہتر شہروں کے لیے ایکشن ۔ جنسی اور تولیدی صحت اور حقوق پر ایک کتاب کے لیے تحقیق کرتے ہوئے ، انہوں نے ملائشیا میں اس موضوع پر معلومات کی کمی کا پتہ لگایا اور م ...

                                               

منیرہ شعبان

شعبان کی عمر تھی جب انہوں نےنرسنگ پڑھنی شروع کی۔ بعد ازاں ، وہ دائی وائیچر میں مہارت حاصل کرتی تھیں۔ انہوں نے لندن میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔ جب وہ اردن واپس آئیں تو انہوں نے ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کی تعلیم کا آغاز کیا۔ انہوں نے نئی دائیوں کے لیے ایک نصابی کتاب مشترکہ لکھی ، دوسروں کو تربیت دی اور دائیوں کے متعلق لیکچر دیے۔ اس نے دائیوں کے لیے اخلاقیات تیار کرنے میں بھی مدد کی۔ شعبان ، پیار سے ماما منیرہ کے نام سے جانی جاتی ہیں وہ زاتاری مہاجر کیمپ میں کام کرنے والی پہلی دایہ تھیں۔انہوں نے UNFPA مشن پر اردن کی صحت سے متعلق امداد کے ذریعے کام کیا۔ 2014 میں ، انہوں نے اس وقت کے جنرل سکری ...

                                               

ضجة أمانة

ضجة أمانة گھانا عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کی پاپولیشن فنڈ کے اندر موجود ایک سابق عہدیدار ہیں ،,یو این ایف پی اے نے "HIV کے پھیلاؤ کو نمایاں طور پر کم کرنے کے لیے پہلی طرز عمل میں تبدیلی کی مہم کے پیچھے انہوں نے محرک قوت "ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔"اس مہم کو یوگنڈا انفارمیشن ، ایجوکیشن اینڈ کمیونیکیشن کمپین یا ہیلتھ ایجوکیشن کمپین کہا گیا تھا اور ضجة أمانة 1987 اور 1990 کے درمیان اس کی محرک تھیں۔وہ جان گئی کہ یوگنڈا کے نامور گلوکارہ فیلی لوٹایا کو ایڈز تھا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مواصلات کی مہم میں استعمال کیا گیا تھا کہ "ایڈز کا سامنا ہے"۔ان کے اور لٹاؤس کے کام کا انکشاف ٹی وی پرو ...

                                               

سرگئی لاوروف

                                               

انسانی ترقی (معاشیات)

انسانی ترقی ایک ایسا عمل ہے جس کی خصوصیات مادی حالات کی تغیر سے ہوتی ہے۔ یہ شرائط ضرورتوں اور خواہشات کی تکمیل کے امکانات کو متاثر کرتی ہیں۔ وہ ہر فرد کی جسمانی اور نفسیاتی، حیاتیاتی اور ثقافتی، انفرادی اور معاشرتی صلاحیتوں کو بھی دریافت کرتے ہیں اور ان کا ادراک کرتے ہیں۔ یہ سائنس کا نام بھی ہے جو یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کس طرح اور کیوں تمام عمر اور حالات کے لوگ وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں یا ایک ہی رہتے ہیں۔ اس میں انسانی حالت کا مطالعہ شامل ہے جس میں اس کی بنیادی صلاحیت موجود ہے۔ عدم مساوات سے متعلق انسانی ترقی اشاریہ؛ اقوام متحدہ کے ذریعہ انسانی ترقی میں حقیقی پیش رفت کی پیمائش کے ا ...

                                               

کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے رہنما اصول

کاروبار اور انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے رہنما اصول ایک ایسا آلہ ہے جو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور بین الاقوامی کارپوریشنوں اور دیگر کاروباری اداروں کے معاملے پر "تحفظ ، احترام اور علاج" فریم ورک پر عمل درآمد کرنے والے 31 اصولوں پر مشتمل ہے۔خصوصی نمائندہ برائے سکریٹری جنرل جان روگی کے ذریعہ تیار کردہ ، یہ گائیڈنگ اصول اصولوں سے منسلک انسانی حقوق پر منفی اثرات کے خطرے کی روک تھام اور اس کے حل کے لیے پہلا عالمی معیار فراہم کرتے ہیں۔ کاروباری سرگرمی اور کاروباری اور انسانی حقوق کے حوالے سے معیارات اور عمل کو بڑھانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر قبول شدہ فریم ورک کی فراہمی جاری رکھیں ...

                                               

عالمی موسمیاتی تبدیلی کی انسانی ابعاد پر مالے اعلامیہ

عالمی موسمیاتی تبدیلی کی انسانی ابعاد پر مالے اعلامیہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو کئی سمندری جزیرے کی ترقی پذیر ریاستوں کے نمائندوں نے جو نومبر 2007 میں اس اعلامیہ پر دستخط کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔اعلامیہ کا مقصد آب و ہوا کی تبدیلی اور انسانی حقوق کو آپس میں جوڑنے کے لیے ایک واضح حکمت عملی تیار کرنا تھا۔اعلامیے میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مہم کے ایجنڈے میں بھی تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی ہے جس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے صرف ماحولیاتی اثرات پر بھی توجہ مرکوز کرنے سے آب و ہوا میں ہونے والے انسانی حقوق کے اثرات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔اعلامیہ میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ ...

                                               

انسانی حقوق اور آب و ہوا کی تبدیلی

انسانی حقوق اور آب و ہوا کی تبدیلی ایک تصوراتی اور قانونی فریم ورک ہے جس کے تحت بین الاقوامی انسانی حقوق اور گلوبل وارمنگ سے ان کے تعلقات کا مطالعہ ، تجزیہ اور خطاب کیا جاتا ہے۔ماحولیات سے متعلق قومی اور بین الاقوامی پالیسی کی رہنمائی کے لیے اس فریم ورک کو حکومتوں ، اقوام متحدہ کی تنظیموں ، بین سرکاری تنظیم اور غیر سرکاری تنظیم ، انسانی حقوق اور ماحولیاتی حامیوں اور ماہرین تعلیم کے ذریعہ استعمال کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق فریم ورک کنونشن اور بنیادی انسانی حقوق کے بین الاقوامی آلات کے تحت تبدیلی لائیں۔ انسانی حقوق اور آب و ہوا کی تبدیلی کا تجزیہ عالمی ماحولیاتی مظا ...

                                               

ایسکازو معاہدہ

"لاطینی امریکا اور کیریبین میں ماحولیاتی معاملات میں اطلاعات تک رسائ ، عوامی شرکت اور انصاف سے متعلق علاقائی معاہدہ ، اسکازو معاہدہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔"لاطینی امریکا اور کیریبین میں ماحولیاتی معاملات میں اطلاعات تک رسائی ، عوامی شرکت اور انصاف سے متعلق علاقائی معاہدہ ، اسکازو معاہدہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔, ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں 24 لاطینی امریکی اور کیریبین اقوام کے ذریعہ ماحولیات کے بارے میں معلومات تک رسائی کے حق ، موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے ماحولیاتی فیصلہ سازی ، ماحولیاتی انصاف اور ایک صحت مند اور پائیدار ماحول میں عوامی شرکت۔یہ معاہدہ لاطینی امریکہ اور کیریبین کے 33 ...

                                               

عالمی یوم سائیکل

اقوام متحدہ کی عام مجلس نے اپریل 2018ء کو 3 جون کے دن کو عالمی یوم سائیکل قرار دیا۔ اس کی وجہ سائیکلوں کا ماحول دوست ہونا اور اس سے صحت پر مثبت اثرات کا مرتب ہونا ہے۔ اس کے علاوہ جن فوائد کو عالمی طور پر تسلیم کیا گیا ہے، ان کا خلاصہ اس طرح ہے: یہ نقل مکانی کا ایک کم لاگت اور ماحولیاتی ذریعہ ہے ، چونکہ یہ کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج کا باعث نہیں ہے ، یہ ہماری نقل و حرکت سے زیادہ ایندھن استعمال پر بھی زور نہیں دیتی ہے۔ یہ دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرتی ہے ، کیونکہ یہ دل کے کام کو بہتر بناتا ہے ، خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے اور خون کے دباؤ کو کم کرتی ہے۔ یہ ٹانگ اور کولہوں کے پٹھوں کو برابر ...

                                               

سید کمال الدین ظفری

ظفری 5 مارچ 1945 کو بھولا، بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بنگلہ دیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے تعلیم حاصل کی اور پھر جامعہ ام القری، مکہ مکرمہ، سعودی عرب سے کلاسیکی عربی کی تعلیم حاصل کی۔

                                               

اسرائیلی بربریت: قومی اسمبلی کی متفقہ قرار داد

نہتے فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف پیر کو قومی اسمبلی میں متفقہ مذمتی قرارداد کی منظوری اور وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر جمعہ کو ملک گیر سطح پر یومِ سیاہ منانے کے اعلان نے پاکستان کو دوچار کے سوا اسلامی دنیا کے تمام ملکوں پر اخلاقی برتری دلا دی ہے جو شہری آبادی پر اسرائیل کے جارحانہ حملوں پر یا تو خاموش ہیں یا پھر مصلحت اور تذبذب کا شکار امریکا اور اس کے ہمنوا مغربی ملکوں کے لیے بھی شرم کا مقام ہے جو دعویٰ تو انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا کرتے ہیں لیکن عملاً جموں و کشمیر ہو یا فلسطین، بھارتی اور صیہونی استبدادی قوتوں کے انسانیت کش اقدامات کے خلاف زبان تک نہیں کھولتے۔ پاکستا ...

                                               

تعلیم کا حق

تعلیم کا حق متعدد بین الاقوامی کنونشنوں میں انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے ، بشمول معاشی ، بین الاقوامی معاہدہ برائے معاشی ، معاشرتی اور ثقافتی حقوق جو سب کے لیے مفت ، لازمی بنیادی تعلیم کے حق کو تسلیم کرتا ہے ، سب کے لیے قابل رسائی ثانوی تعلیم کی ترقی ، خاص طور پر مفت ثانوی تعلیم کے ترقی پسند تعارف کے ذریعہ ، ایک فریضہ۔ مثالی طور پر مفت اعلی تعلیم کے ترقی پسند تعارف کے ذریعہ ، اعلی تعلیم تک مساوی رسائی کو فروغ دینے کی ذمہ داری۔آج ، دنیا بھر میں تقریبا 75 ملین بچوں کو ہر روز اسکول جانے سے روکا جاتا ہے۔2015 تک ، 164 ریاستیں عہد کی فریق تھیں۔ تعلیم کے حق میں ان افراد کے لیے بنیادی تع ...

                                               

جان اسپوسیٹو

جان لوئس ایسپوسیٹو مشرق وسطی کا مطالعہ ، مذہبی مطالعہ اور اسلام کے اسکالر کے ایک اطالوی امریکی پروفیسر ہیں ، جو واشنگٹن ڈی سی میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں مذہب اور بین الاقوامی امور اور اسلامی علوم کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ وہ جارج ٹاؤن میں مرکز امیر ولید بن طلال برائے مفاہمت اسلام-عیسائیت کے بانی ڈائریکٹر بھی تھے۔

                                               

شیخ جراح

شیخ جراح مشرقی یروشلم میں قدیم شہر سے 2 کلومیٹر شمال میں، جبل المشارف کی سڑک پر ایک بنیادی طور پر فلسطینی محلہ ہے۔ اس کا نام صلاح الدین ایوبی کے معالج شیخ جراح کے تیرہویں صدی کے مقبرے کے نام پر ہے جو یہاں واقع ہے۔ جدید محلہ کی بنیاد 1865ء میں رکھی گئی تھی اور یہ آہستہ یروشلم کے مسلم اشرافیہ خاص طور پر الحسینی خاندان کا رہائشی مرکز بن گیا۔ 1948ء کی عرب اسرائیلی جنگ یہ اردن کے زیر انتظام مشرقی یروشلم اور اسرائیل کے زیر انتظام مغربی یروشلم کے درمیان میں آزاد سرزمین سے متصل ایک علاقہ تھا، لیکن اس محلہ پر اسرائیل نے 1967ء 6 روزہ جنگ میں قبضہ کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی زیادہ تر فلسطینی آبادی 1 ...

اقوام متحدہ
                                     

ⓘ اقوام متحدہ

25 اپریل، 1945ء سے 26 جون، 1945ء تک سان فرانسسکو، امریکا میں پچاس ملکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرس منعقد ہوئی۔ اس کانفرس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور کیا گیا۔ چنانچہ اقوام متحدہ یا United Nations کا منشور یا چارٹر مرتب کیا گیا۔ لیکن اقوام متحدہ 24 اکتوبر، 1945ء میں معرض وجود میں آئی۔

اقوام متحدہ یا United Nations Organisation کا نام امریکا کے سابق صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے تجویز کیا تھا۔

                                     

1. منشور اور مقاصد

اس کے چارٹر کی تمہید میں لکھا ہے کہ

  • ایسے حالات پیدا کریں گے کہ عہد ناموں اور بین الاقوامی آئین کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھایا جائے۔ آزادی کی ایک وسیع فضا میں اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور زندگی کا معیار بلند ہو۔
  • انسانوں کے بنیادی حقوق پر دوبارہ ایمان لائیں گے اور انسانی اقدار کی عزت اور قدرومنزلت کریں گے۔
  • مرد اور عورت کے حقوق برابر ہوں گے۔ اور چھوٹی بڑی قوموں کے حقوق برابر ہوں گے۔
  • ہم اقوام متحدہ کے لوگوں نے ارادہ کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے۔
لہذا
  • تمام اقوام عالم اقتصادی اور اجتماعی ترقی کی خاطر بین الاقوامی ذرائع اختیار کریں۔
  • یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے رواداری اختیار کریں۔
  • بین الاقوامی امن اور تحفظ کی خاطر اپنی طاقت متحد کریں۔ نیز اصولوں اور روایتوں کو قبول کر سکیں اس بات کا یقین دلائیں کی مشترکہ مفاد کے سوا کبھی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔
  • ہمسایوں سے پر امن زندگی بسر کریں۔
                                     

1.1. منشور اور مقاصد مقاصد

اقوام متحدہ کی شق نمبر 1 کے تحت اقوام متحدہ کے مقاصد درج ذیل ہیں۔

  • ایک ایسا مرکز پیدا کرنا جس کے ذریعے قومیں رابطہ عمل پیدا کر کے ان مشترکہ مقاصد کو حاصل کر سکیں۔
  • قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑھانا۔
  • آرٹیکل نمبر 2 کے تحت تمام رکن ممالک کو مرتبہ برابری کی بنیاد پر ہے۔
  • مشترکہ مساعی سے بین الاقوامی امن اور تحفظ قائم کرنا۔
  • بین الاقوامی اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور انسانوں کو بہتری سے متعلق گتھیوں کو سلجھانے کی خاطر بین الاقوامی تعاون پیدا کرنا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے لیے لوگوں کے دلوں میں عزت پیدا کرنا۔
                                     

2. رکنیت

ہر امن پسند ملک جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی شرائط تسلیم کرے اور ادارہ کی نظر میں وہ ملک ان شرائط کو پورا کر سکے اور اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے تیار ہو برابری کی بنیاد پر اقوام متحدہ کا رکن بن سکتا ہے۔ شروع میں اس کے صرف 51 ممبر تھے۔ بعد میں بڑھتے گئے۔ سیکورٹی کونسل یا سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی اراکین کو معطل یا خارج کر سکتی ہے۔ اور اگر کوئی رکن چارٹر کی مسلسل خلاف ورزی کرے اسے خارج کیا جا سکتا ہے۔ سلامتی کونسل معطل شدہ اراکین کے حقوق رکنیت کو بحال کر سکتی ہے۔ اس وقت اس کے ارکان ممالک کی تعداد 193 ہے۔ تفصیلی فہرست کے لیے دیکھیے: اقوام متحدہ کے رکن ممالک۔

                                     

3. اعضاء

اقوام متحدہ کے 6 اعضاء ہیں

  • سرپرستی کونسل
  • سلامتی کونسل
  • جنرل اسمبلی
  • سیکریٹریٹ
  • اقتصادی و سماجی کونسل
  • بین الاقوامی عدالت انصاف

سلامتی کونسل کی کمیٹیاں

1- ملٹری اسٹاف کمیٹی۔ 2-تخفیف اسلحہ کمیٹی۔ 3-داخلہ کمیٹی۔ 4-ماہرین کی کمیٹی۔ 5-اجتماعی تدابیر کمیٹی۔

                                     

3.1. اعضاء جنرل اسمبلی

جنرل اسمبلی تمام رکن ممالک پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر رکن ملک اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ پانچ نمائندے بھیج سکتا ہے۔ ایسے نمائندوں کا انتخاب ملک خود کرتا ہے۔ ہر رکن ملک کو صرف ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

جنرل اسمبلی کا معمول کا اجلاس سال میں ایک دفعہ ماہ ستمبر کے تیسرے منگل کو شروع ہوتا ہے، تاہم اگر سلامتی کونسل چاہے یا اقوام متحدہ کے اراکین کی اکثریت کہے تو جنرل اسمبلی کا خاص اجلاس کسی اور وقت میں بھی بلایا جا سکتا ہے۔

                                     

3.2. اعضاء کمیٹیاں

جنرل اسمبلی کا کام سر انجام دینے کے لیے چھ کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں۔ ان کمیٹیوں میں نمائندگی کا حق ہر ممبر ملک کو حاصل ہے۔

  • چوتھی کمیٹی تولیتی معاملات کے متعلق ہے جس میں غیر مختار علاقوں کے معاملات بھی شامل ہیں۔
  • چھٹی کمیٹی قانون سے متعلق ہے۔
  • پانچویں کمیٹی انتظامی معاملات اور بجٹ کے متعلق ہے۔
  • پہلی کمیٹی تحفظاتی اور سیاسی معاملات سے متعلق ہے۔ ہتھیاروں میں تخفیف کا معاملہ بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اس کی مزید امداد کے لیے ایک خصوصی سیاسی کمیٹی بھی ہے۔
  • تیسری کمیٹی سماجی انسانی اور ثقافتی معاملات کے بارے میں ہے۔
  • دوسری کمیٹی اقتصادی اور مالیاتی معاملات کے متعلق ہے۔

ان کے علاوہ ایک جنرل اسمبلی کے پریذیڈنٹ، 17 وائس پریذیڈنٹ اور بڑی کمیٹی کے 6 ارکان پر مشتمل ہے جن کا انتخاب جنرل اسمبلی کرتی ہے۔ جنرل کمیٹی کا اجلاس اسمبلی کے کام کا جائزہ لینے اور اسے بخوبی سر انجام دینے کے لیے اکثر منعقد ہوتا ہے۔ جنرل اسمبلی کی امداد کے لیے مزید کئی کمیٹیاں بھی ہیں۔ جنرل اسمبلی اکثر اوقات بہ وقت ضرورت ہنگامی کمیٹیاں بھی مقرر کرتی ہے۔ مثلاً امبلی نے دسمبر 1948ء میں کوریا کے لیے اقوام متحدہ کا کمیشن مقرر کیا۔ اقوام متحدہ نے مصالحتی کمیشن برائے فلسطین مقرر کیا۔ تمام کمیٹیوں کی سفارشات جنرل اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔



                                     

3.3. اعضاء سلامتی کونسل

سلامتی کونسل یا سکیورٹی کونسل اقوام متحدہ کا سب سے اہم عضو ہے اس کے کل پندرہ ارکان ہوتے ہیں، جن میں سے پانچ مستقل ارکان جو فرانس، روس، برطانیہ، چین اور امریکا ہیں اور ان کے پاس کسی بھی معاملہ میں راے شماری کو تنہا رد یعنی ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔

ان کے علاوہ اس کے دس غیر مستقل اراکین بھی ہیں جن کو جنرل اسمبلی دو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ انھیں فوری طور پر دوبارہ منتخب نہیں کیا جاسکتا۔

                                     

3.4. اعضاء سلامتی کونسل کے فرائض اور اختیارات

  • سلامتی کونسل کی کارروائی ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ اس لیے رکن ملک کا ایک نمائندہ ہر وقت اقوام متحدہ کے ہیڈ کواٹرز میں موجود رہتا ہے۔ سلامتی کونسل جہاں چاہے اپنا اجلاس فورا منعقد کر سکتی ہے۔
  • فوجی عملے کی کمیٹی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے چیف آپ سٹاف یا ان کے نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
  • بین الاقوامی تنازعوں کو سلجھانے کے بارے میں منصوبے تیار کرنا۔
  • کسی ایسے جھگڑے یا موضوع کی تفشیش کرنا جو بین الاقوامی نزاع پیدا کر سکتا ہو
  • اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق دنیا بھر میں امن اور سلامتی قائم رکھنا
  • سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے تمام اراکین کی طرف سے کارروائی کرتی ہے۔ یہ سب اراکان سلامتی کونسل کے فیصلوں کی تعمیل میں ہامی بھرتے ہیں اور اس کی درخواست پر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے مسلح فوجیں یا دیگر مناسب اقدام کرتے ہیں۔
                                     

3.5. اعضاء سلامتی کونسل کی کمیٹیاں

1- ملٹری اسٹاف کمیٹی۔ 2-تخفیف اسلحہ کمیٹی۔ 3-داخلہ کمیٹی۔ 4-ماہرین کی کمیٹی۔ 5-اجتماعی تدابیر کمیٹی۔

                                     

3.6. اعضاء اکنامک اور سوشل کونسل

اس کے 54 اراکین ہیں جس میں سے 18 ممبروں کو جنرل اسمبلی ہر بار باری 3، 3 سال لے لیے منتخب کرتی ہے۔ جنرل اسمبلی کے زیر انتظام یہ کونسل اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں کی ذمہ دار ہے۔

اس کونسل میں ہر فیصلہ محض کثرت رائے سے کیا جاتا ہے۔ یہ رکن کا ایک ووٹ ہوتا ہے۔ یہ کونسل کمیشنوں اور کمیٹیوں کے ذریعے کام کرتی ہے۔

اس کونسل کے کمیشنوں میں درج ذیل کمیشن شامل ہیں۔

  • آبادی سے متعلق کمیشن
  • رسل اور مواصلات سے متعلق کمیشن
  • جنوبی امریکا کے لیے اقتصادی کمیشن
  • خواتین کے حقوق سے متعلق کمیشن
  • یورپ کے لیے اقتصادی کمیشن
  • ان کے علاوہ تین علاقہ واری کمیشن بھی موجودہ ہیں۔
  • انسانی حقوق سے متعلق کمیشن
  • شماریات سے متعلق کمیشن
  • ایشیا اور مشرق بعید کے لیے اقتصادی کمیشن
  • سماجی ترقی سے متعلق کمیشن
  • اقتصادیات، روزگار اور ترقی سے متعلق کمیشن
  • سرکاری خزانے سے متعلق کمیشن
  • منشی ادویات سے متعلق کمیشن


                                     

3.7. اعضاء ٹرسٹی شپ کونسل

اقوام متحدہ نے ایک بین الاقوامی تولیتی نظام قائم کیا تاکہ ان علاقوں کی نگرانی اور بندوبست کا انتظام کرے جو جداگانہ تولیتی معاہدوں کے ذریعہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آ گئے۔

تولیتی نظام کا مقصد بین الاقوامی امن و امان اور حفاظت کو ترویض کرنا۔ تولیتی علاقی جات کے باشندوں کی ترقی کا خیال رکھنا تا کہ وہ خود مختاری اور آزادی حاصل کر سکیں۔

تولیتی کانفرس کا فرض ہے کہ تولیتی علاقہ جات کے باشندوں کی سیاسی، اقتصادی، سماجی اور تعلیمی ترقی کے بارے میں استفسار نامہ مرتب کرے جس کی بنا پر انتظام کرنے والی حکومتیں سالانہ رپورٹ تیار کریں۔ اس کے ممبروں میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ ٹرسٹ علاقوں کا انتظام کرنے والے ممالک شامل ہوتے ہیں۔

                                     

3.8. اعضاء بین الاقوامی عدالت

بین الاقوامی عدالت کا صدر مقام شہر ہیگ واقع نیدر لینڈز ہالینڈ ہے۔ یہ عدالت اقوام متحدہ کا سب سے بڑا قانونی ادارہ ہے۔ تمام ملک جنہوں نے آئین عدالت کے منشور پر دستخط کیے، جس مقدمے کو چاہیں اس عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں خود بھی سلامتی کونسل قانونی تنازعے عدالت بھیج سکتی ہے۔

بین الا قوامی عدالت 15 ججوں پر مشتمل ہے۔ عدالت کی ان ارکان کو جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل آزاد رائے شماری کے زریعی نو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ جج اپنی ذاتی قابلیت کی بنا پر منتخب ہوتا ہے۔ تاہم یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ اہم قانونی نظام کی نمائندگی ہو جائے۔ یاد رہے کہ ایک ہی ملک کے دو جج بیک وقت منتخب نہیں ہو سکتے۔

                                     

3.9. اعضاء سیکریٹریٹ

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ناظم امور کی حثیت سے کام کرتا ہے۔ سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی سیکٹری جنرل منتخب کرتی ہے۔ سیکٹری جنرل اسمبلی کو ایک سالانہ رپورٹ پیش کرتا ہے اور اسے حق حاصل ہے کہ اپنا عملہ خود نامزد کرے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ میں مندرجہ ذیل دفاتر شامل ہیں۔

مندرجہ ذیل امدادی اداروں میں بھی اقوام متحدہ کا عملہ کام کرتا ہے۔

وہ ادارے جنہیں جنرل اسمبلی یا اقتصادی کونسل قائم کرے

  • ترقیاتی پروگرام UNDP
  • انکٹاڈ UNCTAD
  • یونیسف unicef اس کا صدر دفتر ینو یارک میں ہے۔
  • اقتصادی ترقی کی تنظیم UNIDO
  • مہاجرین کا کمیشن UNRWA
                                               

اچمی

لوگ اچمی یا کھڈمونی فارسی نسل کا ایک نسلی گروہ ہیں جو جنوب ایران ، یعنی فارس اور کرمان صوبوں کے جنوب ، صوبہ بوشہر کا مشرقی حصہ اور صوبہ ہرمزگان کے بیشتر حصوں میں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ، ان میں سے بیشتر کئی سالوں سے خلیج فارسی ممالک ، جیسے متحدہ عرب امارات ، بحرین ، کویت ، قطر اور عمان میں مقیم ہیں اور انہیں دیسی سمجھا جاتا ہے۔ ان میں بیشتر سنی اور اقلیت شیعہ بھی نظر آتے ہیں ، یہ لوگ زبان اچمی بولتے ہیں جو قدیم فارسی کے قریب ہے۔