Back

ⓘ کیمیا




                                               

نیوکلیائی کیمیاء

کیمیاء کی وه شاخ جس میں تابکار عناصر میں هونے والی تبدیلیاں اور ان سے خارج هونے والی شعاعوں کا مطالعه کیا جاتا ہے، نیوکلیائی کیمیاء کهلاتی ہے۔ تابکاری کیمیاء کی اقسام کیمیاء

                                               

گولی (دوا)

گولی ایک دوا کی شکل ہے جو منہ کے راستے دی جاتی ہے۔ اسے انگریزی زبان میں اولڈ سولڈ ڈوزیج یا او ایس ڈی بھی کہا جاتا ہے، جس کا مطلب زبانی ٹھوس خوراک ہے۔ گولی کی تعریف یہ ہے کہ دوا کے لیے مستعمل کیمیاوی اجزا کو ایک ٹھوس شکل میں پیش کرتی ہے۔ اس میں سبھی کیمیاوی اجزا صحیح تناسب میں موجود ہوتے ہیں اور اس کی ایک مستقل ہیئت بھی ہوتی ہے، جو عمومًا گولائی دار ہوتی ہے، حالاں کہ کبھی گولیاں بیضوی یا چوکور شکل میں بھی مل سکتے ہیں، جو شکلیں عام گولیوں سے کم دست یاب ہوتی ہیں۔ گولیاں سفید اور دیگر کئی رنگوں میں دست یاب ہو سکتی ہیں۔ ایک دوا جو ایک خاص مقصد کے لیے بنائی جائے، دیگر کئی مقاصد کے لیے بھی حسب ضر ...

کیمیا
                                     

ⓘ کیمیا

کیمیا سائنس کی وہ شاخ جو مادے کی ترکیب، ساخت، خواص اور مادوں کے تعاملات سے متعلق ہے۔ اس شعبہ علم میں خاص طور پر جوہروں کے مجموعات ؛ مثلا سالمات اور ان کے تعملات، قلموں دھاتوں سے بحث کی جاتی ہے۔ کیمیا میں ان مذکورہ اشیاء کی ساخت اور پھر ان کی نئے مرکبات میں تبدیلیوں کا مطالعہ اور ان کے تفاعل کے بارے میں تحقیق شامل ہے۔ اور جیسا کہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب مادے کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا جائے گا تو جوہر یا ایٹم یعنی باریک پیمانے پر مادے کا مطالعہ بھی لازمی ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ کیمیا میں جوہروں کی ساخت اور ان کے آپس میں تعملات اور روابط کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔

                                     

1. سرخیاں

پہلے زمانے میں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس دنیا میں تمام اشیاءایک از سو 1/100 گندم کے دانہ کے برابر ایک چھوٹے سے ذرے سے بنے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ انسان نے ترقی کی اور یہ بات ثابت کی کہ دنیا کا سب چھوٹا ذرہ یوں ہوتا ہے کہ اس کے درمیان میں مرکزہ نیوکلس ہوتا ہے اور اس میں برقیہ،اولیہ اور تعدیلہ ہوتے ہیں جن میں اولیہ اور تعدیلہ مرکزہ یعنی نیوکلس میں ہوتے ہیں اور برقیہ جو منفی نیگٹیو چارج رکھتا ہے اس مرکزہ کے ارد گرد گھومتے ہیں یا چکر لگاتے ہیں۔؎

                                     

2. تاریخ

ابتدائی تہذیبوں، جیسے کہ بابلی، مصری وغیرہ دھات کاری اور ظروف سازی کے ماہر تھے۔ لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی باقاعدہ نظریہ نہ وضع کیا۔ ابتدائی کیمیائی مفروضہ، ارسطو نے چار عناصر کے نظریہ کی صورت میں پیش کیا جس کے مطابق ہر چيز پانی، ہوا، مٹی اور آگ کے اختلاط سے وجود میں آئی ہے۔ یونانی فلسفیوں کے مطابق ان چار عناصر کے مختلف تناسب سے ایک شے دوسری شے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ شروع میں کیمیا گری، دھاتوں اور عناصر کو سونے میں تبدیل کرنے اور دائمی زندگی کے لیے اکسیر حاصل کرنے جیسے جادوئی اور پراسرار نظریات تک محدود تھی۔

                                     

3. شا خیں

کیمیا کی مندرجہ ذیل شا خیں ہیں:

نامیاتی کیمیا

آرگینک کیمسٹری، کاربن اور ہائیڈروجن کے آب کاربن hydrocarbons اور ان سے ماخوذ مرکبات کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

غیر نامیاتی کیمیا

ان آرگینک کیمسٹری، غیر نامیاتی مرکبات کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

طبیعی کیمیا

فزیکل کیمسٹری مادے کی ترکیب اور طبیعی خواص کے درمیان تعلق اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ہے۔

تجزیاتی کیمیا

کیمیائی نمونے کے اجزا کی علیحدگی، ان کا تجزیہ اور پہچان اینالیٹیکل کیمسٹری کہلاتا ہے۔

حیاتیاتی کیمیا

کیمیا کی وہ شاخ جو جاندار اجسام میں پائے جانے والے کیمیائی مادوں کی ساخت، ترکیب اور ان کے کیمیائی عمل کے مطالعہ سے متعلق ہے بائیو کیمسٹری کہلاتی ہے۔

نیوکلیائی کیمیا

نیوکلیئر کیمسٹری میں تابکاری، نوکلیائی عملیات اور نوکلیائی خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

صنعتی کیمیا

کیمسٹری کی وہ شاخ جس میں تجارتی پیمانے پر مرکبات بنانے کے طریقوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے، انڈسٹریل کیمسٹری کہلاتی ہے۔

ماحولیاتی کیمیا

انوائرنمنٹل کیمسٹری، حیاتیاتی کیمیائی biochemical مظاہر جو قدرتی طور پر زمین پر رونما ہوتے ہیں کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

مشاکلت
                                               

مشاکلت

مشاکلت ہم شکلی؛ مشاکلت؛ہم وضعیت؛ دو سیٹوں میں اشیا کا ایک کے برابر ایک کا تطابق۔ متعلق یا ہم رشتہ مادوں میں یکساں قلمی شکل کا ظہور۔ مختلف گروہوں کے جسم نامی میں مشابہتیں؛ ہم صورتی؛ متشاکلت؛ ہم شکلیت؛ ہم وضعیت۔