Back

ⓘ یہودی ثقافت




یہودی ثقافت
                                     

ⓘ یہودی ثقافت

یہودی ثقافت سے مراد یہودی لوگوں کی ثقافت جو تاریخ کے مختلف ادوار پر محیط ہے۔ اس میں تورات میں مذکور وہ دور بھی شامل ہے جب ایک یہودی مملکت قائم ہوئی تھی، وہ کئی صدیاں بھی شامل ہیں جب وہ ترک وطن کر کے مختلف جغرافیائی خطوں میں انتہائی تکلیف کی زندگی جی رہے تھے اور وہ دور بھی ہے جس کے موجودہ دور میں اسرائیل کی مملکت وجود میں آئی۔ یہودیت اپنے پیرو کاروں کو اعتقادات اور عملی زندگی میں رہنمائی کرتی ہے۔ اسی وجہ اسے صرف مذہب نہیں سمجھا گیا بلکہ اعتقاد و عمل کا امتزاج سمجھا گیا ہے۔ سبھی افراد کو یا سبھی ثقافتی مظاہر کو "مذہبی" یا "دنیوی" طرز پر زمرہ بند نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فرق با شعور افراد کی سوچ کی دین ہے۔

                                     

1. جدیدیت اور قدامت پسندی

جدیدیت پسند یہودی آج کی جوان یہودی نسل پر مشتمل لوگ ہیں جو جدیدیت کو قدامت پسندی پر ترجیح دینے کی وکالت کرتے ہیں۔ یہ لوگ اسرائیل کو ایک سیکیولر مملکت بنانے کی وکالت کرتے ہیں۔ قیام اسرائیل کے وقت ایسے کچھ لوگ عبرانی کی بجائے یدیش زبان کو ملک کی سرکاری اور عوامی رابطے کی زبان بنانا چاہتے تھے۔ تاہم ملک کا ایک گروہ جس کی یہاں حکومت پر زیادہ رسائی حاصل ہے، قدامت پسندی اور مذہبی سوچ کا حامل ہے۔

غالبًا اسی کی وجہ سے فلسطین کے تاریخی شہر بیت المقدس کو اسرائیلی حکومت اور منظم صہیونی جتھے طویل عرصے سے یہودیانے کے خواہش مند ہیں۔

                                     

2. تاریخ

متحدہ ملوکیت کے بعد یہودی معاشرے کی کوئی سیاسی وحدت باقی نہیں رہی تھی۔ چوں کہ اسرائیلی آبادیاں ہمیشہ ہی سے جغرافیائی طور پر بکھری ہوئی تھی دیکھیے یہودی تارکین وطن، لہٰذا انیسویں صدی میں اشکنازی یہودی تھے جو مشرقی اور وسطی یورپ میں آباد تھے؛ سفاردی یہودی جو زیادہ تر بحیرہ روم طاس کی برادریوں میں پھیلے ہوئے تھے؛ مزراحی یہودی جو بنیادی طور پر سارے مغربی ایشیا میں پھیلے ہوئے تھے؛ اس کے علاوہ بھی کئی یہودی آبادیاں تھیں جو وسطی ایشیا، قفقاز، ایتھوپیا اور بھارت میں پھیلی ہوئی تھی دیکھیے یہودیوں کی نسلی تقسیم۔ اس وجہ سے یہودی ثقافت میں مذہبی وحدت کے ساتھ کئی متفرق عناصر بھی شامل ہیں۔