Back

ⓘ قدامہ ابن جعفر




                                               

حضرہ

حضرہ حلقہ ذکر خاص طور پر سنی صوفیا سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں میں رائج ہے اور اس کی سربراہی طریقت سے واقف شیخ کرتا ہے، یہ طریقہ ذکر سلسلہ تصوف میں نئےداخل ہونے والوں کو راغب کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا نام حضرہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ دل کی موجودگی کا ایک سبب ہے اور یہ تصوف کی راہ میں ایک اہم ستون ہے۔

                                     

ⓘ قدامہ ابن جعفر

کنیت ابوالفرج، نام قُدَامَہ ابن جعفر بن قُدامہ بن زیاد ہے جبکہ اپنے زمانے میں الکاتب البغدادی کے نام سے مشہور تھے۔ قدامہ ابن جعفر کے والد ابوالقاسم جعفر بن قدامہ بن زیاد تھے۔ قدامہ ابن جعفر کی پیدائش بغداد میں 259ھ مطابق 873ء میں ہوئی۔ صاحب کتاب الاغانی ابو الفرج اصفہانی کے قول کے مطابق ابو القاسم جعفر بن قدامہ کی وفات بروز منگل 21 جمادی الثانی 329ھ مطابق 23 مارچ 941ء کو ہوئی۔ قدامہ مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے لیکن بعد میں عباسی خلیفہ المکتفی باللہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔

المکتفی باللہ کے عہدِ خلافت میں ہی قدامہ بغداد کے دیوانِ خراج میں ایک زمانہ تک اوسط درجہ کی خدمات کے نتیجے میں ابو الحسن علی بن محمد بن الفرات کی وزارت میں دیوان الزمام کے رئیس مقرر ہوئے۔ مؤرخ یاقوت الحموی نے لکھا ہے کہ: آخری بات جو ہمیں اُس کی نسبت معلوم ہے، وہ ابوحیان کا یہ قول ہے کہ وہ سنہ 320ھ میں ابوسعید السیرافی اور ابو بشر متیٰ ابن یونس کے مناظرے کے موقع پر الفضل بن جعفر بن الفرات کے ہاں موجود تھا۔ قدامہ اپنے عہد کے فصحاء و بلغاء اور فاضل فلاسفہ شخصیات میں سے تھے۔ اُنہوں نے ابوالعباس ثعلب متوفی 291ھ، المُبَرَّد متوفی 285ھ، عاصر ابن قتیبہ متوفی 285ھ اور ابوسعید السکری متوفی 275ھ کا زمانہ پایا۔ ریاضی اور علم منطق میں اعلیٰ دستگاہ حاصل تھی۔ نقد شعر میں اپنے زمانے میں مشہور تھے۔ ادب پر بہت سی کتابیں تصنیف کی تھیں لیکن اس وقت قدامہ کی صرف دو کتابیں ہی موجود ہیں۔

                                     

1. وفات

قدامہ ابن جعفر کا انتقال عباسی خلیفہ المکتفی باللہ کے عہد میں 337ھ مطابق 948ء میں بغداد میں ہوا۔ اُس وقت قدامہ کی عمر 74 یا 75 سال کی تھی۔ تدفین بغداد میں کی گئی۔

                                     

2. تصانیف

قدامہ کثیرالتصانیف تھے مگر اُن کی دو کتب ہم تک پہنچ سکی ہیں:

نقد الشعر

یہ کتاب شعر پر تنقید کے حوالے اور اپنے موضوع کی مناسبت سے پہلی اور مفید کتاب سمجھی جاتی ہے۔ پہلی بار 1301ھ میں استنبول کے مطبعۃ الجوائب سے شائع ہوئی۔

کتاب الخراج و صنعۃ الکتابت

یہ کتاب قدامہ ابن جعفر کی تالیفات میں غالباً سب سے بڑی اور نہایت جامع و جزیل الفائدہ کتاب تھی۔ اِس میں سلطنت کے تمام دواوین کے اعمال و احوال، اُن کے رسوم و آداب اور وہ تمام اُمور جن کی ایک کاتب کو ضرورت پیش آتی ہے، اِس میں تفصیل سے لکھے گئے تھے۔ لیکن افسوس ہے کہ اِس کثیر المنفعت کتاب کا بڑا حصہ ضائع ہو گیا اور اب اِس کی آٹھ منزلوں اور ہر منزل کے متعدد اَبواب میں سے ہم تک جو پہنچ سکا ہے وہ پانچویں منزل کا آخری حصہ اور چھٹی منزل کے سات ابواب میں سے دو کامل اور چار ناقص ابواب ہیں۔ یہ ابواب ’’ کتاب الخراج‘‘ کے نام سے مشہور مستشرق ڈی خوی نے استنبول کے مکتبہ کوپرولو کے دو نامکمل نسخوں سے مرتب کرکے مع ترجمہ لائیڈن کے مطبع بریل سے شائع کیے۔ اردو زبان میں پہلا ترجمہ حیدرآباد دکن سے 1930ء میں ابو الخیر مودودی کا شائع ہوا۔

                                               

بشیر بن عنبس

بشیر بن عنبس غزوہ احد میں شریک انصار صحابی تھے۔ پورا نام بشير بن عنبس بن زيد بن عامر بن سواد بن ظفر ہے انصاری اور طفری ہیں غزوہ احد ،غزوہ خندق اور دیگر تمام غزوات میں شریک رہے یہ خلافت فاروق اعظم مین جسر ابی عبید کے دن شہید ہوئے فارس حوا کے نام سے مشہور ہیں جو ان کے گھوڑے کا نام تھا قتادہ بن نعمان بن زید کے چچا زاد بھائی ہیں جن کی آنکھ غزوہ احد مین شہید ہوئی تھی اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے انہیں واپس کر دیا تھا یہ رفاعہ بن زید بن عامر کےبھائی کے بیٹے تھے۔

                                               

عمرو بن الحارث بن كندہ

عمرو بن الحارث بن كندہ یہ بیعت عقبہ میں موجود انصار صحابی تھے۔ ان کا پورا نام عمرو بن الحارث بن کندہ بن عمرو بن ثعلبة الأنصاري ہے ابن اسحاق نے انہیں شرکائے بیعت عقبہ میں شریک کیا۔

                                               

مسعود بن یزید

مسعود بن یزید یہ بیعت عقبہ میں موجود انصار صحابی تھے۔ ان کا پورا نام مسعود بن يزيد بن سبيع بن سنان بن عبيد بن عدي بن كعب بن غنم بن كعب ابن سلمة الأنصاري السلمي ہے ان کی کنیت ابو محمد تھی ان سے وجوب وتر کی روایت ہے۔

                                               

غزیہ بن عمرو الانصاری

غزیہ بن عمرو الانصاری یہ بیعت عقبہ میں موجود انصار صحابی تھے۔ ان کا پورا نام غزية بن عمرو بن عطية بن خنساء بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن النجار ابن ثعلبة بن عمرو بن الخزرج الأنصاري، الخزرجی، النجاری ہے غزوہ احد میں رسول اللہ کے ساتھ تھے یہ سراقہ بن عمرو والد ضمرہ بن غزیہ کے بھائی ہیں۔

                                               

عباد بن قیس الزرقی

عباد بن قیس الزرقی یہ بیعت عقبہ میں موجود انصار صحابی تھے۔ ان کا پورا نام عبادبن قيس بن عامر بن زريق الأنصاري الزرقي ہے ابن اسحاق نے انہیں شرکائے بیعت عقبہ میں شریک کیا۔

                                               

شباث بن خدیج

شباث بن خدیج یہ انصار صحابی تھے۔ ان کا پورا نام شباث بن خديج بن سلامة بن أوس بن عمرو بن كعب بن القراقر بن الضحيان البلوي ہے بنی حرام بن کعب کے حلیف ہیں ان کےوالد عقبہ میں شریک ہوئے تھے اور ستر آدمیوں میں سے ہیں شباث عقبہ کی رات ہی پیدا ہوئے تھے شباث کی والدہ منیع کی والدہ تھیں اور ام منيع بنت عمرو بن عدي بن سنان بن نابي الأنصارية السلميةتھیں یہ مسلمان تھیں اور اپنے شوہر کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک تھیں۔