Back

ⓘ معلومات کا دور




                                               

قاضی محمد نور قادری

ابوالفخر محمد نور رضوی 13 رجب 1307ھ مطابق 5مارچ 1890ء موضع اوڈھروال ضلع چکوال، پنجاب، پاکستان کےایک علمی کہوٹ قریشی گھرانے میں ہوئی۔والد کا نام مولانا قاضی عالم نور قریشی اور دادا حافظ محمد سرداراحمد قریشی ہے۔ خاندانی شجرے کے مطابق آپ کا سلسلۂ نسب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچاجان حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے جا ملتاہے۔

                                               

اروند ساونت

اروند گن پت ساونت ایک بھارتی سیاست دان ہیں جن کا تعلق سیاسی جماعت شیو سینا سے ہے۔ وہ شیو سینا کے بی جے پی سے اتحاد اور مہاراشٹر اور بھارت کی مرکزی حکومت میں اتحاد کے دور میں وہ بھاری صنعتوں اور عوامی صنعتوں کے وزیر رہے۔ وہ 2014ء سے رکن پارلیمان رہے۔ 11 نومبر 2019ء کو نریندر مودی حکومت کے کابینہ سے مستعفی ہوئے، جس کی وجہ ان کی جماعت اور بی جے پی کے بیچ رسا کشی تھی۔ یہ اسی سال ہو رہے ریاستی قانون ساز اسمبلی انتخابات تک بھی جاری رہا اور اسی رسا کشی کی وجہ سے ریاست میں مہا وکاس اگھاڑی حکومت وجود میں آئی جس میں شیو سینا کے نے راشٹروادی کانگریس پارٹی اور انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت س ...

                                               

دی لٹل پولر بیئر 2: دی مسٹیریس اسلنڈ

دی لٹل پولر بیئر 2: دی مسٹیریس اسلنڈ ایک 2005 میں جرمن اینی میٹڈ ایڈونچر فلم ہے۔ یہ 2001 سے دی لٹل پولر بیئر کا سیکوئل ہے۔

                                               

ایکسٹنکٹ (فلم)

ایکسٹنکٹ ایک کینیڈاین امریکی چینی کمپیوٹر متحرک ایڈونچر مزاحیہ فلم ہے۔ ڈیوڈ سلورمین کی ہدایت کاری، اور ریمنڈ ایس پرسی کی مشترکہ ہدایت کاری۔ فلم 2020 کے اوائل میں ریلیز کے لئے تیار کی گئی تھی، لیکن تاخیر سے ہوئی۔

                                               

ریوین دی لٹل رسکل

ریوین دی لٹل رسکل ایک 2012 کی جرمن متحرک مزاحیہ فلم ہے۔ یوٹ وون مینچو-پوہل اور سینڈر جیسی کی ہدایت کاری۔ ڈرک بین ہولڈ ، رولینڈ جنکر اور ڈرک ڈوزرٹ نے تیار کیا۔ اسکرین پلے بذریعہ کٹجا گرول۔ ایلکس کومولیو کی موسیقی۔ 6 ستمبر ، 2012 کو جاری کیا گیا۔

                                               

شاہد جمیل

بھارت کی حکومت نے انڈین سارس سی او وی 2 جینومکس کنسارٹیا) کے نام سے ایک مشاورتی گروپ تشکیل دیا جس کے صدر مشہور وائرسیات کے ماہر ڈاکٹر شاہد جمیل بنے۔ وہ اشوکا یونیورسٹی کے تریویدی اسکول آف بایو لائف سائنسیز کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ انساکوگ ملک کی ددس لیباریٹریوں کا ایک گروپ ہے جس کا مقصد ملک میں کووڈ 19 کی ابھرتی اقسام کا مطالعہ ہے۔ شاہد جمیل کی شہرت کا سبب ان کا سائنسی کیریئر، وائرسوں پر ان کا ادراک اور ہیپاٹائٹس ای ان کی تحقیق ہے۔ وہ شانتی سوروپ بھٹناگر اعزاز برائے سائنس و ٹیکنالوجی سے بھی نوازے گئے ہیں۔ انہوں نے کئی انٹرویو اور مذاکروں کے ذریعے ملک کے لوگوں کے بیچ کووڈ 19 کے تعلق سے سوالات ک ...

                                               

ٹیڈ سیجر مولی مونسٹر

ٹیڈ سیجر مولی مونسٹر ایک سوئس جرمن سویڈش متحرک ایڈونچر فنتاسی فلم ہے۔ ٹیڈ سیگر ، میتھیس بروہن اور مائیکل ایکبلدھ کی ہدایت کاری میں۔ جان چیمبرز کی اسکرین پلے۔ اینیٹ فاکس کے ذریعہ موسیقی۔ الیگزینڈرا اسکھاٹز فلپروڈوکیشن ، لٹل مونسٹر ، سینیٹر فلم پروڈکشن ، سلگگرفیلم اور ٹرک اسٹوڈیو لوٹر بیک نے تیار کیا۔ 15 فروری 2016 کو جاری کیا گیا۔

                                               

راجندر سنگھ جی جڈیجا

جنرل مہاراج شری راجندر سنگھ جی جڈیجا ، ڈی ایس او جنھیں بطور کے ایس راجندر سنگھ جی سے بھی جانا جاتا ہے، فیلڈ مارشل کے ایم کیریپپا کے بعد؛ بھارتی فوج کے پہلے چیف آف آرمی اسٹاف اور دوسرے بھارتی تھے ، جو بھارتی فوج کے کمانڈر انچیف بن گئے تھے۔

معلومات کا دور
                                     

ⓘ معلومات کا دور

معلومات کا دور ، کمیوٹر کا دور ، برقی دور یا جدید ذارئع ابلاغ کا دور اکیسویں صدی کا ایک تاریخی دور ہے جس میں دنیا صنعتی انقلاب کی پیداوار روایتی صنعت سے معیشت پر مبنی اطلاعاتی طرزیات کی جانب منتقل ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی بہت تیز اور حیران کن ہے اور برقی ایجادات پر مبنی ہے۔ برقی ایجادات یا معلومات کے دور کے بانیان میں ولیم شاکلی، والٹر ہاوزر اور جان بردین ہیں جنہوں نے جدید ٹکنالوجی اور بنیادی ٹرانسسٹر کو ایجاد کیا۔اقوام متحدہ عوامی انتظامی نیٹ ورک کے مطابق کمپیوٹر اور اس سے متعلق ایجادات اور ترقیوں کو معیشت سے جوڑنے کے بعد ہی معلومات کے دور کا آغاز ہوا۔ روزمرہ زندگی میں ٹکنالوجی سماجی تنظیموں کی وجہ سے معلومات اور مواصلات کی تجدید کاری ممکن ہو سکی اور یوں سماج نئے دور میں داخل ہو گیا۔

                                     

1.1. ترقی معلومات کی ذخیرہ اندوزی

دنیا میں معلومات کو جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 1986ء میں 2.6 ایکسا بائٹ تھی جو 1993ء میں 15.8 ایکسا بائٹ ہو گئی۔ 2000ء میں 54.5 اور 2007ء میں 295 ایکسا بائٹ تھی۔ ایک ابدازہ کے مطابق 1986ء میں 730 ایم بی کی ایک سی ڈی روم یعنی 539 فی نفر، 1993ء میں 4 سی ڈی روم، 2000ءمیں 12 سی ڈی روم اور 2007ء میں 61 سی ڈی روم فی کس معلومات جمع کرنے کی صلاحیت فی الحال دنیا میں موجود ہے۔ ایک عمومی اندازی لگایا گیا ہے کہ 2014ء میں معلومات کو جمع کرنے کی صلاحیت 5 زیٹا بائٹ ہو گئی ہے۔

                                     

1.2. ترقی ڈاٹا کی ذخیرہ اندوزی میں برق رفتار ترقی

مور کا قانون کہتا ہے کہ برقی ڈاٹا کی ذخیرہ اندوزی غیر معمولی تیزی سے ترقی پزیر ہے۔ کرائیڈر کا قانون بھی تقریباً یہی بات کہتا ہے۔

                                     

2. معلومات کی ترسیل

ون وے بروڈ کاسٹ کے ذریعے دنیا کی ٹیکنالوجی کی معلومات وصول کرنے کی صلاحیت 1986ء میں 432 میگا بائٹ تھی۔ 1993ء میں یہ صلاحیت 715 ایکسا بائٹ ہو گئی۔ 2000ء میں 1.2 زیٹا بائٹ اور 2007ء میں 1.9 زیٹا بائٹ ہو گئی۔ اتنی جانکاری تقریباً یومیہ 174 اخباروں کے برابر ہے۔ ٹو وے ٹیلی کمیونیکیشن کے ذریعے معلومات ترسیکل کرنے کی صلاحیت 1986ء میں 281 پیٹا بائٹ، 1993ء میں 471 پیٹا بائٹ، 2000ء میں 2.2 ایکسا بائٹ اور 2007ء میں 65 ایکسا بائٹ تھی۔ یہ یومیہ 6 اخباروں کے برابر ہے۔ 1990ء کی دہائی میں معلومات کی ترسیل کا استعمال گھر اور تجارت میں کیا جانے لگا۔ ٹیکنالوجی نے اتنی تیزی سے ترقی کی کہ 1997ء میں $3000 کا بکنے والا کمپیوٹر ایک سال بعد $2000 کا بکنے لگا اور اس کے ایک سال بعد اس کی قیمت محض $1000 رہ گئی۔

                                     

3. ٹیکنالوجی اور معاشیات

انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی نے بڑی سرعت رفتاری سے ترقی اور کمپیوٹر، انٹرنیٹ، مواصلاتی سیارے، فائبر تار اور دیگر برقی آلات معاشیات کا جزءلاینفک بن گئے۔ مائکرو کمپیوٹر کو بنایا گیا اور کئی تجارتی میدانوں نے خود کو برقی آلات کا عادی بنا لیا۔

روزگار اور تقسیم آمدنی پر اثر

انفارمیشن کے دور میں کام کاج کئی معنوں میں بدل گیا ہے۔ اب یہ حال ہو گیا ہے کہ وہ ملازمین جو بآسانی خود کار طریقے سے کسی کام کو انجام دیتے ہیں انہیں مشکل کام کو خودکار طریقے سے کرنے کہ راہ تلاش کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ ۔ پھر عالمی بازار میں ملازمین کو مسابقہ کرنے کو کہا جاتا ہے اور بالآخر ملازمین کی جگہ کمپیوٹر کو نصب کر دیا جاتا ہے اور کام کو زیادہ آسانی اور کم وقت میں کر دیتا ہے۔ یہ صنعتی کاروبار مین ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس کا حل فی الحال تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔

Caferağa Medrese
                                               

Caferağa Medrese

مدرسہ جعفر آغا ایک سابقہ مدرسہ ہے جو آیا صوفیہ کے ساتھ استنبول، ترکی میں واقعہ ہے۔ اسے سلطان سلیمان کے دور میں جعفر آغا کےحکم پر معمار سنان نے 1559 میں تعمیر کیا۔

جعفر آغا مدرسہ
                                               

جعفر آغا مدرسہ

مدرسہ جعفر آغا ایک سابقہ مدرسہ ہے جو آیا صوفیہ کے ساتھ استنبول، ترکی میں واقعہ ہے۔ اسے سلطان سلیمان کے دور میں جعفر آغا کےحکم پر معمار سنان نے 1559 میں تعمیر کیا۔

کرسچیان سنوک ہرگرونیے
                                               

کرسچیان سنوک ہرگرونیے

کرسچیان سنوک ہرگرونیے یا کرسچیان اسناؤک ہرگرونجے ڈچ سکالر اور متشرق تھے۔وہ 8 فروری 1857 کو ہالینڈ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مذہبیات کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1881 کے لگ بھگ اسلام قبول کیا اور اپنا نام عبدالغار رکھا۔ قدرت اللہ شہاب نے اپنی آپ بیتی شہاب نامہ میں اُن کے قبول اسلام کو ایک دھوکہ قرار دیا ہے۔ 1885 میں انہوں نے حج کیا۔ انہوں نے پہلی بار اس دور کی جدید ترین ایجاد کیمرے سے کعبہ کے فوٹو گراف بھی بنائے۔ وہ 26 جون 1936 کو ایک مختصر علالت کے بعد فوت ہو گئے۔