Back

ⓘ الواس اشپرنگر




الواس اشپرنگر
                                     

ⓘ الواس اشپرنگر

الواس اشپرنگر آسٹریا کے ایک مستشرق تھے۔

انہوں نے یونیورسٹی آف وینا سے طب، علوم فطریہ اور استشراق کی تعلیم حاصل کی۔ 1836ء میں وہ لندن گئے جہاں انہوں نے ایری آف مونسٹر کے ساتھ ان کی کتاب مسلم عوام کے درمیان میں فوجی سائنس کی تاریخ پر کام کیا۔

وہ 1843ء میں کولکاتا چلے گئے اور پھر دہلی آ کر ذاکر حسین دہلی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ انہوں نے کئی یورپی زبان کی کتابوں کا ہندوستانی زبان میں ترجمہ کیا۔ 1848ء میں انہیں شاہی کتب خانہ کے لیے ایک کیٹلاگ تیار کرنے کے لیے لکھنؤ بھیجا گیا۔ اس کی جلدیں 1854ء میں کولکاتا میں تیار ہوئیں۔ فارسی شاعروں اور ان کا مختصر تعارف اور ان کے شاہکار کلاموں سے مزین یہ مجموعہ فارسی ادب کے دلدادوں کے لیے کسی خزانہ سے کم نہیں ہے۔

1850ء میں وہ ایشیاٹک سوسائٹی کے ممتحن، سرکاری مترجم اور سکریٹری مقرر ہوئے۔ اس عہدہ پر رہتے ہوئے انہوں نے کئی کتابیں شائع کیں جن میں مسلم سائنسدانوں کے ذریعہ استعمال تکنیکی اصطلاحات کا لغت 1854ء ابن حجر عسقلانی کی اصحاب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تذکرہ 1856ء قابل ذکر ہیں۔

اشپرنگر 1857ء میں یونیورسٹی آف برن میں مشرقی زبانوں کے پروفیسر مقرر ہوئے اور پھر 1881ء میں ہائیڈل برک چلے گئے۔ ان کی تصنیف کردہ عربی، فارسی، ہندوستانی اور دیگر زبانوں کی تمام مجلد کتابوں، مخطوطات اور مطبوعات کو برلن اسٹیٹ لائنریری نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔