Back

ⓘ عربی میل




                                     

ⓘ عربی میل

عربی میل تاریخی طور پر قدیم عربی اکائیوں میں طول کی اکائی ہے جسے موجودہ زمانے میں 1.8 سے 2.0 کلومیٹر کے درمیان تصور کیا جاتا ہے۔ طول کی یہ اِکائی قرونِ وسطیٰ میں قرونِ وسطیٰ کے عرب جغرافیہ دان اور ماہرین فلکیات استعمال کیا کرتے تھے۔ اب اِس اکائی کی بجائے ناٹیکل میل استعمال ہوتا ہے۔

                                     

1. پیمائش

ابن کثیر فرغانی کے مطابق عربی میل 4000 ذراع کے برابر ہوتا ہے۔ یہ پیمائش خلیفہ المامون کے عہد میں ابن کثیر فرغانی نے کی تھی جو موجودہ عہد کے 1995 میٹر کے برابر ہوتا ہے۔ دولت اُمویہ کے عہد 661ء سے 750ء میں عربی میل کی پیمائش 2.285 میٹر 7.497 فٹ تھی جو 2 کلو میٹر سے تھوڑا سا کم ہوتا ہے۔عربی میل دولت اُمویہ کے عہد میں یہ پیمائش بائبل کے بیان کردہ 2 میل کے مطابق تھی۔

                                     

2. خلیفہ المامون کے عہد میں پیمائش

830ء میں خلیفہ المامون نے مسلم جغرافیہ دانوں اور ماہرین فلکیات کے ایک جماعت کو فلکیاتی پیمائشوں کے لیے منتخب کیا تھا جنہوں نے رَقَّہ اور تَدمُر کے درمیان فاصلہ پیمائش کیا تھا۔ عرض بلد کے مطابق یہ پیمائش 66 2 ⁄ 3 میل تھی جس کے مطابق زمین کے محیط کا تعین 24.000 میل کیا گیا تھا۔

                                               

مولوی لطف علی

مولوی لطف علی نے عربی فارسی کی تعلیم ملتان میں حاصل کی کچھ عرصہ نواب بہاول خان ثانی کے دربار سے منسلک رہے اس وجہ سے ان کے نام کے ساتھ ملتانی اور بہاولپوری لگتا ہے

Users also searched:

...
...
...