Back

ⓘ وقائع نگاری




                                               

خلط زمان

خلط زمان یا سہوِ زمانی وقائع نگاری کی اصطلاح ہے جس سے مراد کسی عہد کے افکار، واقعات یا تواریخ کو دوسرے عہد سے خلط ملط کرنا ہے۔ مثلاً یہ کہا جائے کہ قرون وسطیٰ میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی اور بے قابو ہو گئی جبکہ اس کا علاج موجود تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرون وسطیٰ میں اس کا علاج دریافت نہیں ہوا تھا، چنانچہ یہاں بیان کرنے والے سے سہو زمانی واقع ہو گیا اور اس نے موجودہ عہد کی صورت حال کو قرون وسطیٰ سے خلط ملط کر دیا۔ اس قسم کا سہو یا خلط کبھی دانستہ ہوتا ہے اور کبھی نادانستہ۔ نیز اس سے کبھی کلام میں زور بیان پیدا کرنا یا تشہیر یا تحیر خیزی بھی مقصود ہوتی ہے۔

وقائع نگاری
                                     

ⓘ وقائع نگاری

وقائع نگاری یا واقعہ نگاری علم التاریخ میں ایک اہم ترین صنف شمار کی جاتی ہے جس میں طویل تاریخ کے واقعات کو وقت کے تسلسل کے ساتھ ترتیب دیا جاتا ہے۔ مؤرخین کے نزدیک یہ صنف تاریخ کو محفوظ رکھنے کے لئے بہترین اور اعلیٰ ترین اَصناف میں شمار کی گئی ہے کیونکہ اِس کے بغیر تاریخ کو بیان کرنا اور محفوظ کرنا ممکن نہیں۔ تاریخ جن واقعات کو بیان کرتی ہے‘ وہ دراصل ایسے مربوط ہوتے ہیں کہ اگر ایک تاریخی کَڑی بھی گُم ہوجائے تو واقعات کا تسلسل منقطع ہوجاتا ہے، لہٰذا خط زمانی میں تاریخی واقعات کو ایک تسلسل اور ترتیب کے ساتھ تشکیل دیا جاتا ہے اور یہی تشکیل اگر طویل ہوجائے تو اِسے وقائع نگاری یا واقعہ نگاری سے منسوب کیا جاتا ہے۔ وقائع نگاری تاریخ سے لازم و ملزوم ہے کیونکہ تاریخ کو ایک تسلسل سے واقعات کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ وقائع نگاری کے بغیر ممکن نہیں ہوپاتا۔ اِس کے علاوہ وقائع نگاری زمینیات اور زمین پر انسانی کی اِبتدائی تاریخ کے واقعات سے بھی منسلک ہے۔ زمین کی ارضیاتی تاریخ بھی وقائع نگاری سے جڑی ہوئی ہے۔