Back

ⓘ بقاء




                                               

بقا

بقا ایک کیفیت ہے یا ایک حال ہے، جو اپنی حقیقت کو ذات خداوندی کے ساتھ وابستہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ بقا فناء کے بعد ہوتی ہے۔ جیسے فنا عن المعاصی۔ اور بقا الطاعتہ گناہوں سے فانی ہوجانا اور اطاعت پر باقی رہنا یا جہالت سے فنا حاصل کرنا اور الٰہی معرفت سے بقا حاصل کرنا متکلمین اسلام کے مطابق فنا اس کارروائی کا نام ہے جس میں شے کے اوصاف معدوم ہو جاتے ہیں اور بقا انہی اوصاف میں دوام حاصل کرنا ہے۔ صوفیہ کا بیان ہے کہ ممکنات کا وجود اور لوازم وجود اور تمام کمالات ممکن کے ذاتی نہیں بلکہ مرتبۂ وجوب سے مستفاد اور باری تعالیٰ کی طرف سے ایک مستعار ودیعت ہے ورنہ بذات خود ہر ممکن ان کمالات سے خالی ہے ...

                                               

اوستا بقاء

اوستا بقا یا اوستا بقاء - قرون وسطی کا معمار) ، بخارا میں کلاں مینار کے مرکزی معمار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کا نام ، جیسے تعمیر کا آغاز کرنے والے کا نام - ارسلان خان ، اور اس ڈھانچے کی تعمیر کا سال ، مینار کے ایک بیلٹ پر نقش کیا گیا ہے۔ اوستا بقاء کے بارے میں یہ لکھا ہے: عمل بقاء ، جس کا فارسی میں مطلب بقاء کا کام ہے ۔ دوسری عمارتوں کے بارے میں جو اوستا بقاء کا کام ہوگا ، کچھ معلوم نہیں ہے۔ بقاء شاید بخارا میں پیدا ہوا تھا ، 1127 سے پہلے ہی اس کی موت نہیں ہوئی تھی ، کیونکہ اس سال کلاں مینار کی تعمیر مکمل ہوئی تھی۔ بخارا میں انتقال ہوا ، اس کی قبر کلاں مینار سے 45 میٹر دور واقع ہے۔ معمار ...

                                               

بقا و فنا

تصوف کی اصطلاح، جو دراصل دو متضاد اور مختلف اصطلاحوں پر مشتمل ہے۔ لیکن دونوں ایک دوسری کی تکمیل کرتی ہیں۔ لغوی اعتبار سے بقاء و فناء کے معنی اور تصوف کے معنی میں فرق ہے۔ لغت کے اعتبار سے بقاء کی تین قسمیں ہیں۔ اول:۔ وہ بقاء کہ کسی چیز کا اول بھی فناء میں ہو اور آخر بھی فناء میں ہو جیسا کہ یہ عالم ناسوت کہ ابتدا میں بھی نہ تھا انتہا میں بھی نہ ہو گا اور فقط اس وقت باقی ہے۔ اور پابند مکان و زمان ہے۔ دوم:۔ دوسرے وہ بقا کہ پہلے کبھی نہ تھی اور بعد میں موجود ہو گئی اور پھر کبھی فانی نہ ہوگی۔ جیسے بہشت، جہنم اور عالم عقبیٰ کے رہنے والے کہ ابتدا میں نہ تھے نیست سے ہست ہوئے اور ان کی ہستی پھر فناء ...

                                               

آزادی اشاعت

آزادی اشاعت یا آزادی ابلاغ مواصلات اور اظہار کی آزادی ہے بذریعہ بیشتر برقی ابلاغ اور مطبوعات کے۔ اس کا متقاض ریاست کی مداخلت کی عدم موجوگی ہے اور اس کی بقاء کے لیے آئینی اور قانونی تحفظات کا سہارا ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اکثر ممالک میں اخبار اور نجی نشریاتی ادارے اس حق کو اپنے لیے مخصوص ہونے کا تاثر دیتے اور چرچا کرتے ہیں مگر اصولاً یہ حق ہر شہری کو حاصل ہونا مانگتا ہے۔

                                               

فنا (تصوف)

اعلیٰحضرت کے جدِّ مرشِد حضرت سیِّد شاہ آلِ اَحمد اچھے میاں ’’ آداب ِسالکین ‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں! فنا کے تین درجے ہیں: 1 فَنافِی الشَّیخ 2 فَنافِی الرَّسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 3 فَنافِی اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ مولانا عبدالرحمٰن جامی کی ”نَفْحاتُ الانَس ‘‘ کے حوالے سے ذکْر کرتے ہیں کہ عام ولایت تو تمام ایمان والوں کو حاصل ہے مگر خاص ولایت ، اَہلِ طریقت میں ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے۔ جو فَنافِی الشَّیخ کے ذریعے فَنافِی الرَّسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہو کر فَنافِی اللہ ہوگئے۔

                                               

قومی سلامتی

قومی سلامتی سے مراد کسی ریاست کی بقاء کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس ضرورت کو اقتصادی طاقت، اطلاقِ طاقت ، سیاسی طاقت اور سفارتکاری کی ممارست کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ یہ تصّور دوسری جنگ عظیم کے بعد زیادہ تر ریاساتِ متحدہ امریکہ میں ترویج پایا۔ یہ اِصطلاح ابتدا میں صرف فوجی طاقت پر مرکوز تھی، لیکن اَب یہ کئی مناظر کا احاطہ کرتی ہے۔

                                               

نمک

یہ مقالہ خوردنی نمک کے متعلق ہے۔ اگر آپ کسی اور صفحے کی تلاش میں ہیں تو دیکھے: نمک نمک ایک معدنی غذا ہے جو حیواناتی حیات کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ عام طور پر قلمی حالت میں پایا جاتا ہے۔ نمک دو کیمیائی عناصر سوڈیم اور کلورین کے کیمیائی تعامل سے حاصل ہوتا ہے اوراس کا کیمیائی فارمولا سوڈئیم کلورائیڈ ہے۔ نمک کا ذائقہ بُنیادی ذائقوں میں سے ایک ہے اور یہ ایک مقبول گرم مسالا بھی ہے۔ انسان کے زیرِ استعمال نمک کئی صورتوں میں بنتا ہے: ناخالص نمک جیسے سمندری نمک، خالص نمک خوردنی نمک اور آیوڈین مِلا نمک۔ یہ قلمی ٹھوس اور رنگ میں سفید یا خاکستری ہوتا ہے۔ یہ سمندری آب یا چٹانوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ کلور ...

                                               

سعودی عرب کے محافظات کی فہرست

محافظات سعودی عرب کی درجہ دوم انتظامی تقسیم ہیں۔ سعودی عرب کے تیرہ علاقے محافظات میں منقسم ہیں۔ جبکہ محافظات مزید مراکز واحد مرکز میں منقسم ہیں۔ علاقائی دار الحکومت محافظات میں شامل نہیں بلکہ وہ بلدیات جنہیں امانہ کہا جاتا ہے کہ زیر انتظام ہیں۔ ہر امانہ کا سربراہ امین ہوتا ہے۔

                                     

ⓘ بقاء

  • اور سوڈئیم آئنات جو نمک کے دو بڑے ا جزائے ترکیبی ہیں تمام زندہ اجسام کی بقاء کے لیے نہایت اہم ہیں نمک جسم میں پانی کی مقدار کی تضبیط سی الی توازن میں
  • العلیا 24, 634 راس تنورہ 60, 750 Al Khazaiah 102, 588 الشنان 41, 641 بقاء 40, 157 حائل شہر 412, 758 ابو عریش 197, 112 احد المسارحہ 110, 710 الدرب
  • لائن نے 25 ستمبر 1999ء کی اپنی ایک شاعت میں یوں لکھا ہے: 2000ء پروپگنڈا کا جائزہ: وائی ٹو کے سے خاندان کی بقاء کی رہ نمائی 1999ء To beat the Y2K bug
  • شاید ہی کسی نے کیا ہو گا مگر عمران کا ایسا رویہ اختیار کرنا مسلمانوں کی بقاء کے لیے تھا مظہر کلیم ایم اے صاحب کا سب سے مشہور مانا جانے والا ناول گولڈن
  • ہوئے ایک بڑا دینی ادارہ بن گیا یہ جامعہ علم ومعرفت کا گلستان اور اسلام کی بقاء وتحفظ کا مضبوط وقلعہ ہے لامذہبیت کے اس دور میں دینی آثار واقدار اور اسلامی
  • کا کردار ادا کیا ہے یہ درہ قوموں تہذیبوں فاتحوں اور نئے نئے مذاہب کی بقاء اور فنا عروج اور زوال کی ایک مکمل تاریخ سمجھا جاتا ہے اصل میں یہ رہ درہ
  • آبادی میں شکار اور ماہی گیری اہم مشاغل کا درجہ رکھتی ہیں یہی ان لوگوں کی بقاء کا سبب بھی ہے تین مقامی سٹوروں میں عام استعمال کی اکثر اشیاء مل جاتی ہیں
  • سماج ہی بنا ایسا اس لیے ہوا تھا کہ اس وقت انسان کا سب سے بڑا مسئلہ نوعی بقاء کا تھا کوئی قابل ذخیرہ دولت نہ تھی جس کے جمع ہوجانے سے کوئی فرد دوسرے دوسرے
  • بیوی چاند کور اور اس کے بیٹے نونہال سنگھ کو باور کروایا کہ سکھ حکومت کی بقاء کے لیے لازم ہے کہ کھڑک سنگھ کو معزول کیا جائے اور نونہال سنگھ کو راجا کی
  • پاکستان کی فوجی اور سیاسی پالیسیوں کا منبع بن گیا ان کے مطابق پاکستان کی بقاء اور استحکام دراصل اس امر میں ہے کہ پاکستان افغانستان پر مکمل طور پر اثر انداز
  • اغنیاء اور فقراء سب کو ملے گا علامہ ابن حبان اندلسی لکھتے ہیں والظاھر بقاء ھذا السھم لذوی القربی وانہ لغنیم وفقیرھم بحر ظاہر یہ ہے کہ حصہ بدستور باقی
فرانسیسی اکادمی برائے علوم
                                               

فرانسیسی اکادمی برائے علوم

فرانسیسی اکادمی برائے علوم فاضل مجلس ہے جس کی بنیاد 1666ء میں لوئیس چہاردہم نے یان کالبرٹ کی فرمائش پر رکھی، جس کا مقصد فرانسسی سائنسی تحقیق کی روح کا فروغ اور بقاء تھا۔ یہ یورپ کی اول سائنسی اکادمیوں میں سے ایک ہے اور اپنے زمانے میں پائے کی مجلس سمجھی جاتی تھی۔

                                               

نایب صوبیدار رحمت گل خان

نایب صوبیدار رحمت گل خان تمغہء دفاع (1965– پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں سلسلہ کوہ ہندوکش کی وادی چترال میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے معرکہء کارگل، معرکہء سیاچن، سوات آپریشن، آپریشن راہ راست اور دیر میدان آپریشن میں بہادری کا مظاہرہ کر کے پاک فوج کے فوجی اعزازات تمغا دفاع اور تمغہء بقاء کا اعزاز حاصل کیا۔ آپ کی مادری زبان کھوار ہے لیکن آپ کو پشتو اور اردو زبانوں پر بھی عبور حاصل ہے، چترالی عوام نے رحمت گل خان کے لیے تمغہء امتیاز کے لیے صدر پاکستان سے اپیل کی ہے-

حب الوطنی
                                               

حب الوطنی

حب الوطنی سے مراد کسی شخص کی اپنے وطن کے لیے محبت ہے۔ ایک محب شخص اپنے ملک و قوم سے ثقافتی و فکری طور پر جڑا ہوتا ہے اور اپنے ملک و قوم کی بقاء کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ حب وطنی کا ایک جز نظریہ بھی ہوتا ہے جس کی بنیا پر ایک ملک قائم ہوتا ہے، مثلا ایک پاکستانی شخص اگر اپنے ملک سے محبت کرتا ہے تو اس نظریے کی بنیاد پر کہ:

Users also searched:

...
...
...